انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 527 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 527

تفسیر حضرت خلیفة مسح الثالث ۵۲۷ سورة ال عمران اسے وہ مزکی قرار دیتا ہے۔واللہ سمیع دعاؤں کو سنے والا ہے اس واسطے جو مظہر بننا چاہے اس کے لئے ضروری ہے کہ جو مز کی بنانے والا ہے اس سے یہ دعا کرے کہ اے خدا! ایسے اعمال صالحہ بجالانے کی ہمیں توفیق عطا کر کہ ہم تیری نگاہ میں پاک اور مطہر بن جائیں اور علیم ( النور : ۲۲) کہہ کر یہ بتایا کہ انسانوں نے جو جائزے لئے اور ار بعد لگا یا اور فیصلے کئے وہ تمہیں نہیں بنائیں گے مزکی، خدائے علیم جس کی نگاہ سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں جب اس کی نگاہ میں تم مز کی قرار دیئے جاؤ گے تو حقیقتاً تمہارے حق میں وہ بشارتیں پوری ہوں گی جو خدا تعالیٰ نے پاک اور مطہر لوگوں کو دی ہیں۔تزکیہ کے لفظ کے متعلق بڑا اچھا نوٹ مفردات راغب ( جو قرآن کریم کی لغت ہے ) میں امام راغب نے دیا ہے وہ کہتے ہیں کہ تزکیہ یہ ہے کہ آنْ يَتَحَرَّى الْإِنْسَانُ مَا فِيْهِ تُظهِيرُہ کہ انسان اپنی طرف سے ایسے اعمال بجالانے کی کوشش کرے جن میں اس کے لئے پاکیزگی ہو جنہیں وہ اپنے لئے پاکیزہ سمجھے۔اور وہ کہتے ہیں کہ قرآن کریم میں فاعل اللہ ہوتا ہے۔اس لئے جو آیت میں نے پڑھی ولکن اللهَ يُزَكّي مَنْ يَشَاءُ اس کے متعلق وہ کہتے ہیں کبھی فاعل تزکیہ عطا کرنے کا اللہ تعالیٰ ہوتا ہے لگون؟ فَاعِلٌ لِذلِك في الحقيقة کیونکہ حقیقی معنی میں خدا تعالی ہی کسی کو پاک اور مطہر بنا سکتا ہے اسی واسطے کہتے ہیں وَلكِنَّ اللهَ يُربِّي مَنْ يَشَاءُ کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ صرف اللہ تعالی پاکیزگی عطا کر سکتا ہے۔وہ کہتے ہیں کبھی فاعل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہوتے ہیں جو پہلی آیت میں نے پڑھی ہے اس میں بھی حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق آتا ہے يَتْلُوا عَلَيْهِمْ أَيْتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ امام راغب کہتے ہیں کہ جہاں یہ ذکر ہے کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پاک اور مطہر بناتے ہیں اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ جو حقیقی پاکیزگی خدا تعالیٰ عطا فرماتا ہے وہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عطا کرتے ہیں۔معنی اس کے یہ ہیں کہ آپ پاکیزگی ان تک پہنچانے کا واسطہ بنتے ہیں کیونکہ آپ ایسی تعلیم لائے ، ایسا نمونہ پیش کیا اور ایسی آیات لوگوں کے سامنے رکھیں۔اس لئے بطور فاعل آپ ان آیتوں میں آجاتے ہیں واسطہ ہونے کی وجہ سے۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ نے پاک بنایا یہاں یہ مطلب ہے کہ آپ کے واسطہ سے اور آپ کے طفیل لوگ پاکیزگی اور طہارت حاصل کرتے ہیں اور کبھی احکام اوامر و نواہی کے متعلق آتا ہے قرآن کریم میں کہ یہ کام جو ہیں، عبادات جو ہیں، احکام بجالانا جو ہے، یہ پاکیزگی پیدا کرتے ہیں۔امام راغب کہتے ہیں یہ اس لئے کہا جاتا ہے کہ جب وہ اعمال مقبول