انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 525
تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۵۲۵ سورة ال عمران ہو جاتی ہے۔میرا اپنا تجربہ ہے۔ابھی منہ سے الفاظ نہیں نکلتے کہ دعا قبول ہو جاتی ہے اور کوئی دعا قبول ہوتی ہے سال بعد دو سال بعد، تین سال بعد، چار سال بعد، جو دعا میں نے سپین کے ملک کے لئے کی کہ اللہ تعالیٰ اسے اسلام کی روشنی سے منور کرے، وہ قریباً نو ساڑھے نو سال بعد قبول ہوئی۔مجھے بتادیا گیا تھا کہ جلدی قبول نہیں ہوگی ، اپنے وقت پر پوری ہوگی۔کتنا بڑا احسان ہے۔جو شخص یہ یقین رکھتا ہو اور خدا تعالیٰ کی صفات کی معرفت کے بعد اس مقام پر کھڑا ہو کہ وہ قادر مطلق جس کے آگے کوئی چیز انہونی نہیں وہ میری دعا قبول کرے گا اگر چاہے گا۔مقصد کے حصول کے لئے کوشش کرنی ہے دعا میں۔دعا کو شرائط کے ساتھ کرنا ہے خدا تعالیٰ سے کبھی نا امید نہیں ہونا۔لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ دعا کی قبولیت کا نشان امت محمدیہ کے ہاتھ میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے پکڑا دیا۔تیسرے معنی آیت کے ہیں، نشانات کا ظاہر ہونا۔مثلاً خدا تعالیٰ نے حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بے شمار نشانات ظاہر کئے۔نشانات یعنی اپنی قدرت کا نشان ( بغیر دعا کے نشان ہے یہ ) خدا تعالیٰ خود اپنے بندوں کی مدد کے لئے آتا ہے جب مدد کی ضرورت ہو۔فراخی رزق کے لئے سامان پیدا کرتا ہے جب انہیں دشواری ہو، کھانے پینے کی چیزیں نہ مل رہی ہوں۔اس وقت آسمان میں بادلوں کو حکم دیتا ہے موقع کے اوپر صحیح مقدار میں جاکے بارش برساؤ تا کہ میرے جو بندے ہیں، بھو کے نہ رہیں۔اسے ہم نشان کہتے ہیں۔معجزات یعنی انہونی باتیں بظاہر وحی کے ذریعے ان کی بشارت دی جاتی ہے اور وہ کام ہو جاتا ہے بالکل ناممکن کام لیکن بشارت دی جاتی ہے، کام ہو جاتے ہیں۔تیسرے معنی آیات کے یہ ہیں یعنی معجزات اور معجزات کے ساتھ ہی میں چوتھے معنی کو بریکٹ کر دیتا ہوں اور وہ مبشرات ہیں خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں بڑی بشارتیں دیں ہیں مومنوں کو، جو ایک علیحدہ شعبہ ہے، روحانی زندگی کا۔یہ دونوں میں نے معجزات اور مبشرات اس لئے اکٹھے کئے کہ مثلاً وَ لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللهُ بِبَدْرٍ وَ انْتُمْ اَذِلَّةُ (ال عمران : ۱۲۴) ایک تو یہ معجزہ تھا کہ تین سو تیرہ غریب بھوکے، کمزور ہوئے ، ہوئے بھوک سے مانگی ہوئی تلواریں پھر زنگ آلود نیزے کند تلوار میں لے کر ایک عظیم لشکر ( جس کی تعداد تین گنے سے بھی زیادہ تھی) کے مقابلہ میں آئے۔سواریاں دشمن کے پاس تھیں، زر ہیں ان کے پاس تھیں، اچھی تلواریں ان کے پاس تھیں۔ہر طرح اچھے ہتھیاروں سے وہ لیس تھے اور اللہ تعالیٰ نے عظیم معجزہ دکھا دیا اس معجزے میں دعا بھی شامل تھی لیکن اگر کوئی دعا نہ ہوتی