انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 524
تغییر حضرت خلیفة المسح الثالث ۵۲۴ سورة ال عمران 66 کیا۔يَتْلُوا عَلَيْهِمُ التِہ وہ آیات پڑھ کر سناتا ہے۔قرآن کریم کے مطالعہ سے یہ بات بڑی واضح ہو جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں آیات کا لفظ یا آيَةٌ “ کا لفظ جو اس کا مفرد ہے، مختلف معانی میں استعمال کیا ہے۔آیۃ کے ایک معنی قرآن کریم کی اصطلاح میں یہ ہیں کہ جلوہ صفت باری کا ، وہ جس کے نتیجہ میں مادی کائنات میں کوئی چیز پیدا ہوئی یا کسی چیز میں کوئی تبدیلی پیدا ہوئی یعنی صفاتِ باری کے وہ جلوے جن جلوؤں نے کائنات کو پیدا کیا۔بے شمار مخلوق ہے اس قدر کہ انسانی عقل میں وہ آنہیں سکتی۔انسان اس کا تصور نہیں کر سکتا۔اس کے متعلق انسان کو مخاطب کر کے فرمایا قرآن کریم میں کہ اے انسان! ہر چیز تیرے لئے پیدا کی گئی ، اس قسم کا اعلان حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کسی نبی کی زبان سے نہیں کروایا گیا۔اس لئے کہ ایک تو ان کے مخاطب صرف ایک جماعت تھی یا ایک قوم تھی ، ایک چھوٹا سا زمانہ تھا لیکن حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مخاطب نوع انسانی تھی اور ہر نسل تھی جو آپ کی بعثت کے بعد قیامت تک اس دنیا میں پیدا ہونے والی تھی ابنائے آدم کی۔تو فضل ہے نا اللہ تعالی کا۔جو اس کی معرفت رکھے گا وہ حمد باری تعالیٰ کرے گا، جو اس کی معرفت رکھے گا وہ علوم کے میدان میں ترقی کرے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تو ایک تو ایسا عظیم رسول ( يَتْلُوا عَلَيْهِمْ ايته ( جو نعماء لے کے آیا ان میں سے پہلی نعمت آیات ہیں اور آیات میں سے صفات باری کے وہ جلوے ہیں جو اس کا ئنات پر ظاہر ہوئے جس نے کائنات پیدا کی ، جس نے کائنات میں وسعت پیدا کی یہ بھی قرآن کریم میں آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ وسعت پیدا کر رہا ہے اس کا ئنات میں ) جس نے کائنات کی ہر مخلوق کی صفات میں وسعت پیدا کی۔جو علم قرآن کریم پر غور کرنے سے ہمیں حاصل ہوتا ہے یہ ہے کہ گندم کا دانہ جو دوسو سال پہلے پیدا ہوا تھا اس کی وہ صفات نہیں تھیں جو صفات اس دانے کی ہیں جو آج پیدا ہورہا ہے۔ہر وقت ہر آن خدا تعالیٰ کی صفات کے جلوے اپنی مخلوق کے ہر حصے پر ظاہر ہورہے ہیں۔تو ایک تو آیات کے یہ معنی ہیں اور دوسرے آیات کے معنی ہیں دعاؤں کا سننا اور قبول کرنا۔عظیم انسان ہیں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، جنہوں نے بار بار ہمارے ذہن میں اور ہمارے دل میں یہ ڈالا کہ مایوس نہیں ہونا۔دعا کرو خدا قبول کرے گا۔یہ درست ہے کہ خدا تعالیٰ خالق اور مالک ہے قبول اس وقت کرے گا جب وہ چاہے گا لیکن یہ دروازہ ہر وقت کھلا ہے۔کسی کی دعا ایک سیکنڈ میں قبول