انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 523 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 523

۵۲۳ سورة ال عمران تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث آسمانی ہدایت اسی ترتیب کو چاہتی تھی اس وقت کی آسمانی ہدایت کیونکہ تزکیہ نفس پر ساری کوشش ختم ہو گئی ابدی ترقیات کا وعدہ نہیں تھا ان کو الکتاب کامل کتاب اُوتُوا نَصِيبًا مِنَ الْكِتب ایک حصہ دیا گیا تھا۔اس واسطے ان کی روحانی ترقیات اور دوسری خیر جوان ہدائتوں کے ذریعے سے ان کو ملتی تھی وہ ایک جگہ پر ختم ہو جاتی تھی ابدی طور پر نہ ختم ہونے والی ترقیات ہمیشہ بڑھتے رہنے والا ہر آن بڑھتے رہنے والا اللہ تعالیٰ کا پیار یہ وعدہ ان ہدایتوں ان شریعتوں میں نہیں دیا گیا تھا۔(خطابات ناصر جلد دوم صفحه ۴۳۴ تا ۴۳۷) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مومنوں میں سے ایک ایسا رسول بھیج کر جو انہیں اس کے نشان پڑھ کر سناتا ہے اور انہیں پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب اور حکمت سکھاتا ہے یقیناً ان پر احسان کیا ہے، اور وہ اس سے پہلے یقینا کھلی کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے تھے۔اللہ تعالیٰ نے انہیں اس گمراہی میں سے نکالا اور اللہ تعالیٰ نے احسان کیا ان پر کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھ بڑی ہی آسمانی نعمتیں لے کر آئے اور ایک گروہ انسانوں میں سے ایسا پیدا ہوا جنہوں نے قبول کیا اور فائدہ اٹھایا برکات سماوی سے حصہ لیا اور خدا کی نگاہ میں وہ پاک ہوئے اور اللہ تعالیٰ کے نشان ان کی زندگیوں میں اور ان سے ظاہر ہوئے تو ( لَقَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ ) میں نے بتایا کہ ہر انسان پر آپ کا احسان ہے لیکن اس آیت میں ذکر ہے صرف مومنوں کا اور دو احسان (بڑے ہی پیارے ہیں وہ ) جو اللہ تعالیٰ کے پیار کا اظہار کرتے ہیں مومنوں پر ہوئے ، ان کا اس میں ذکر ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایک تو اللہ تعالیٰ نے یہ احسان کیا جماعت مومنین پر کہ ان میں ایک اتنا عظیم رسول مبعوث ہوا جس کے طفیل ساری کی ساری اور پوری کی پوری آسمانی نعمتیں حاصل کی جاسکتی ہیں اور دوسرا یہ فضل ہوا مومنوں پر کہ جو ادھوری نعمتیں پہلوں پر نازل ہوئی تھیں اور اللہ تعالیٰ کے نسبتاً کم فضل کے وہ وارث ہوئے تھے اس کے مقابلہ میں اب ایک ایسا گروہ پیدا ہوا جنہیں کامل نعمتیں حاصل ہوئیں اور خدا تعالیٰ کے وہ اس قدر پیارے ہوئے کہ اس سے پہلے بنی آدم میں کوئی قوم اتنی پیاری اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں نہیں ہوئی۔تو ایک تو احسان ہے بعثت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور دوسرا یہ احسان ہے کہ آپ عظیم تعلیم لے کر آئے۔اس کو یہاں اللہ تعالیٰ نے چار شعبوں میں تقسیم کر کے بیان