انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 522 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 522

تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۵۲۲ سورة ال عمران ج ہم نے کسی پر احسان کیا لَقَدْ مَنَّ الله عَلَى الْمُؤْمِنِينَ اور وہاں کہا لَا تَمُثُوا عَلَى إِسْلَامَكُمْ بَلِ اللهُ يمن عَلَيْكُمْ (الحجرات : ١٨) - خدا کا احسان ہے تم پر اگر تم اس دعوی میں بچے ہو کہ تم واقعہ میں مومن اور خدا کے پیار کو حاصل کرنے والے ہو تو خدا کا احسان ہے اپنے زور سے تم ایسا نہیں کہہ سکتے تھے کہ اگر یہ ہدایت نہ نازل ہوتی اور اگر اتنی عظیم تعلیم نہ آتی اگر اتنی بشارتیں ساتھ نہ لاتی اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ وعدے نہ دیئے جاتے کہ تیری اُمت کے وہ لوگ جو تیری اتباع کریں گے وہ میری محبت کو میرے پیار کو، حاصل کر لیں گے۔تو پھر کہاں سے تم پاتے یہ سب چیزیں فرما یا لَقَدْ مَنَ اللَّهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ خدا تعالیٰ نے ان مومنوں پر احسان کیا اِذْ بَعَثَ فِيهِمْ کہ جب ان میں ایک رسول بھیجا ہے جو انہی میں سے ہے یتلوا عَلَيْهِمْ الته وہی چار مقاصد آ گئے جو خدا تعالیٰ کی آیات ان کے اوپر پڑھتا ہے وہ کھول کے ان کے سامنے بیان کرتا ہے اور سمجھا تا ان لوگوں کی طبیعتوں پر اثر پیدا کرتا ہے خیر کل جو ہے اس کو وہ قبول کرو اور اس سے استفادہ کرے اور خالی یہ نہیں کہتا، کرو، بلکہ بتاتا ہے اگر ایسا کرو گے تمہیں فائدہ ہے وَالْحِكْمَةَ وَإِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِی ضَللٍ مُّبِينٍ اس میں ایک اور چیز بڑی زائد آگئی کہ وہ باتیں بتاتا ہے جو تمہیں پہلے پتا نہیں تھیں۔اگر چہ تم یقیناً کھلی کھلی گمراہی میں تھے پہلے لیکن جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے آپ پر شریعت قرآنیہ نازل ہوئی ایک عظیم کتاب اور بحر بے کنار جس کا کوئی کنارہ نہیں ہے اتنے علوم اس میں بھرے ہوئے ہیں آگے ہی، کہ ہر ایک نے اپنی ہمت کے مطابق غوطے لگائے ہر ایک نے اپنی صلاحیت کے مطابق، اس سمندر کی تہہ سے بڑے قیمتی موتی اور جواہرات نکالے خدا کا احسان ہے اگر یہ نہ ہوتا تو تم خدا کے پیار کو حاصل نہ کر سکتے ، اس کی ترتیب میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی دعا میں ترتیب یہ رکھی تھی تو ایسا رسول آئے جو ان کو تیری آیات پڑھ کر سنائے پہلے آیات و يُعَلِّمُهُمُ الْكِتب پھر کتاب کا ذکر وَالْحِكْمَةَ پھر حکمت کا ذکر اور اس کے بعد چوتھی بات حضرت ابراہیم کی دعا میں تزکیہ نفس کا ذکر لیکن جو قبولیت دعائے ابراہیمی ہے اس میں اس ترتیب کو بدل دیا گیا اور اس میں یہ کیا گیا کہ آیات پڑھ کے سنائے اور ان کا تزکیہ کرے۔پھر کتاب سکھائے اور حکمت سکھائے اور اس میں علاوہ اور بہت سارے مضمون کے جن سے قرآن بھرا پڑا ہے ایک حکمت یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جو ترتیب اختیار کی اس وقت کی ہدایت،