انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 519
تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالثة ۵۱۹ سورة ال عمران ہیں وہ ایک عاجز پر بھروسہ کر رہا ہوتا ہے۔جتنا عاجز ایک انسان ہے اتنا ہی عاجز دوسرا انسان ہے لیکن جب خدا کا بندہ اپنی عادت سے مجبور ہو کر یا اپنی سمجھ اور عقل اور ایمان کے تقاضا سے ہر چیز میں خود کو عاجز سمجھتا اور پاتا ہے اور اللہ تعالیٰ پر توکل کرتا ہے تو وہ ایک ایسی ذات پر توکل کرتا ہے جس میں کام کرنے کی ساری طاقتیں ہیں۔تو توکل کا ایک پہلو یہ ہے کہ غیر اللہ کو اس قابل نہیں سمجھنا کہ وہ ہماری ضرورتوں کو پورا کر سکتے ہیں اور خود اپنے آپ کو بھی اس قابل نہیں سمجھنا اور دوسرا پہلو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو واقعی قادر سمجھنا اور واقعی اس بات کا اہل سمجھنا اسے صفات کا مالک سمجھنا کہ وہ ہماری ہر ضرورت کو پورا کر دے گا۔اگر ہمیں مال کی ضرورت ہے تو یہ نہیں سمجھنا کہ دنیا والے ہمیں رزق دے دیں گے لیکن یہ ضرور سمجھنا ہے کہ ہمارا خدا رازق ہے اور ایسے رستوں سے بھی رزق دے دیتا ہے کہ انسان کی عقل میں بھی وہ نہیں ہوتا۔یرزق مَنْ يَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ ( البقرة : ٣٦) خطابات ناصر جلد اوّل صفحه ۲۵۴) مجاہدہ کی ایک شکل ہمیں قرآن مجید سے یہ بھی معلوم ہوتی ہے۔وَلَبِنْ قُتِلْتُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ متُم لَمَغْفِرَةٌ مِنَ اللهِ وَرَحْمَةٌ یہاں صرف قتل کئے جانے کا ذکر ہے۔ضروری نہیں کہ جنگ میں قتل ہو۔اگر آپ تاریخ اسلام پر نظر ڈالیں تو آپ کو معلوم ہوگا۔کہ مسلمان صرف میدان جنگ میں ہی شہید نہیں کئے گئے۔بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ مجموعی طور پر ہزاروں لاکھوں مسلمان ایسا ہے جسے میدان جنگ میں نہیں بلکہ امن کی حالت میں کافروں نے بڑی بے دردی کے ساتھ قتل کیا۔جیسا کہ ہماری تاریخ میں صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید کو کابل میں پکڑا گیا۔وہ بے گناہ، بے بس اور کمزور تھے۔حکومت کا مقابلہ نہیں کر سکتے تھے۔حکومت نے خدا تعالیٰ کے فرمان کے خلاف، اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کو مول لیتے ہوئے ان کو پکڑا اور قتل کر دیا۔اور بڑی بے دردی سے قتل کیا۔تو ایک شکل مجاہدہ یا جہاد فی سبیل اللہ کی یہ ہے کہ انسان ایسے وقت میں اپنی جان قربان کر دیتا ہے اور کمزوری نہیں دکھاتا۔صداقت سے منہ نہیں موڑتا۔دشمن کہتے ہیں کہ تم تو بہ کر لو تو ہم تمہیں چھوڑ دیں گے وہ کہتا ہے کہ کس چیز سے تو بہ ؟؟ تو بہ کر کے حق کو چھوڑ دوں !! صداقت سے منہ پھیروں !!! اور باطل کی طرف آجاؤں !!!! ایسا مجھ سے نہیں ہو سکتا! مرنا آج بھی ہے اور کل بھی۔تمہارا جی چاہتا ہے تو ماردو لیکن میں صداقت کو نہیں چھوڑ سکتا۔خطبات ناصر جلد اول صفحه ۴۴۶ ، ۴۴۷)