انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 518 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 518

تغییر حضرت خلیفة لمسیح الثالثة ۵۱۸ سورة ال عمران جاسکتا ہے؟ ہم نے حکم دیا تھا تد بیر کو انتہا تک پہنچاؤ تم نے تدبیر کو انتہا تک پہنچادیا اب ہم تمہیں کہتے ہیں کہ اپنی تدبیر کو انتہا تک پہنچانے کے بعد بھی تم نے تدبیر پر بھروسہ نہیں کرنا فَتَوَكَّلْ عَلَى اللهِ الله تعالیٰ پر بھروسہ کرنا ہے۔پھر ایک اور دعا بھروسہ کے ساتھ ہی شروع ہو جاتی ہے اللہ تعالیٰ پر توکل جو ہے اس کے ساتھ دوسری دعا جو ہے وہ شروع ہو جاتی ہے اور جو آراء لی تھیں اور کثرت رائے کے حق میں یا خلاف جو بھی شکل شہد کی بنی وہ بن گئی۔پس یہاں محض یہ نہیں کہا کہ اے رسول ! تمہارا عزم شامل ہو گیا۔تم نے اللہ تعالیٰ کی تدبیر کو انتہا تک پہنچادینے کے بعد تدبیر پر بھروسہ نہیں کرنا اللہ پر توکل کرنا ہے۔مومنوں کو یہ کہا کہ تم یہ نہ سمجھنا تمہاری آراء کے ساتھ نا ئب نبوت کا عزم اور ہمت اور کوشش اور دعامل جانے سے تم کامیاب ہو جاؤ گے۔تم بھی یہ یاد رکھو اسکے باوجود تم بھی کامیاب نہیں ہو سکتے بلکہ تم کو اللہ پر بھروسہ رکھنا پڑے گا اور دوسری آیت میں فرمایا وَ عَلَى اللهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ ایک حکم دیا تھا نہی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی وساطت سے آپ کے نائبین کو اور دوسرا حکم دیا جماعت مسلمین کو وَعَلَى اللهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ میں اس طرف اشارہ ہے اور اس میں جماعت مؤمنین کو مخاطب کر کے یہ کہا کہ یہ بات نہ بھولنا کہ اگر اللہ تعالیٰ تمہاری مدد کو آ جائے تو دنیا کی کوئی طاقت تمہیں نا کام نہیں کر سکتی اور اگر اللہ تعالیٰ کی نصرت تمہیں سہارا نہ دے تو دنیا کی کوئی طاقت تمہیں کامیاب نہیں کر سکتی۔خطبات ناصر جلد سوم صفحہ ۷۸ تا ۸۶) کہ جو مومن ہیں وہ جب بھی خود کو عاجز پائیں اور اور پر توکل کا موقعہ سمجھیں تو وہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی پر توکل نہیں کیا کرتے۔وَ عَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ کے دو حصے ہیں۔ایک یہ کہ غیر اللہ پر توکل نہیں کرنا یعنی اپنے علم پر بھروسہ نہیں رکھنا۔اپنے اموال پر بھروسہ نہیں کرنا۔اپنے جتھے اور برادری پر بھروسہ نہیں کرنا۔اپنی قوت بازو پر بھروسہ نہیں کرنا۔رشوت پر بھروسہ نہیں کرنا۔جھوٹ پر بھروسہ نہیں کرنا۔دھوکہ دہی پر بھروسہ نہیں کرنا کہ اس سے ہمارے کام بن جائیں گے۔تو انہیں کرنے والا ایک حصہ ہے اور دوسرا یہ کہ یہ یقین رکھنا کہ اللہ تعالیٰ ہمارا کارساز ہے اور اتنی قوت اور طاقت رکھتا ہے کہ ہمارے سارے کام کر سکتا ہے۔ہم عاجز ہیں لیکن خدا عاجز نہیں ہے۔دنیا میں دنیا دار جب دنیا والوں پر بھروسہ کرتے