انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 517 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 517

تغییر حضرت خلیفة لمسیح الثالث ۵۱۷ سورة ال عمران دخل ہے ) لیکن اصل اسی کا فیصلہ ہے کہ میں نے کچھ انسان کو دینا ہے اور بیچ میں سے بہت کچھ خود کھا لینا ہے اور اس طرح انسان کے ہاتھ میں شفا کی ایک چیز آجاتی ہے چنانچہ پھر یہ کہنا کہ صرف آراء کے او پر نہیں چھوڑنی بات۔اگر صرف رائے پر چھوڑنی ہو بات، تو کثرت رائے کی پابندی ضروری ہو جائے مگر ابھی تو شہر ہی نہیں بنا ابھی تو اس میں شفا ہی نہیں پیدا ہوئی کثرت رائے پر کیسے چھوڑا جا سکتا ہے؟ پھر کہا کہ عزم اپنے تمام پہلوؤں کے ساتھ ہر قسم کی Enzymes (انزائمز ) مثال کے طور پراس Nectar (نیکٹر ) میں، اُس پھول کے جزو میں تم شامل کرو اور پھر عزم جو ہے اسکے اندر دعا کا حصہ بھی آجاتا ہے کیونکہ عزم کے دو معنے ہیں ایک تو یہ عزم کرنا کہ یہ کام ہم نے ضرور کرتا ہے یہ بھی لغوی طور پر عزم کے معنے میں ہے کہ پھر اس کام کی سرانجام دہی کے لئے انتہائی کوشش کرنا۔اور جد في الأمر “جو عربی میں اس کو کہا گیا ہے اسکے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں بتایا ہے کہ تد بیر دعا ہے اور دعا تدبیر ہے تو دعا کا پہلو بھی اسکے اندر آجاتا ہے۔پس کہا کہ تم اپنا عزم اس رائے کے بیچ میں شامل کرو اور انتہائی دعاؤں کے ساتھ ایک ایسی چیز ایک ایسا شہر بناؤ ایک ایسا فیصلہ کرو جو اسلام کے استحکام کے لئے ضروری ہے اور جو کمزور ایمان والوں کے لئے شفا ہے اور جو Prophylactic ( پرافیلیکٹک ) کے طور پر بیماریوں سے محفوظ رکھنے والا ہے تربیت ،علاج اور اصلاح دونوں چیزیں اس کے اندر آجاتی ہیں۔پس تربیت تو Prophylactic ( پر افیلیکلک ) یعنی بیماریوں سے بچانے کا کام ہے اور یہ ساری چیزیں اسکے اندر آ جاتی ہیں۔غرض فرمایا کہ جماعت تیار کرو اور پھر ان سے مشورہ لو اور یہ آگے جو مشورہ کا ہے اس کی مثال دے دی کہ اس کی مثال ایسی ہے جیسے شہد کی مکھی شہد بنا رہی ہو۔آراء لو پھر اپنے عزم کو اپنی ہمت کو اپنی کوشش کو اپنی دعاؤں کو اس کے اندر شامل کرو اس مقام پر انسانی تدبیرا اپنی انتہا کو پہنچ جائے گی لوگ اکٹھے ہوئے انہوں نے مشورہ دیا رسول یا نائب رسول نے اپنے عزم کی Enzymes ( انزائمز ) اس میں شامل کیں دعائیں بیچ میں شامل کیں اور تدبیر کو انتہا تک پہنچادیا اور جس وقت تد بیر انتہا کو پہنچ گئی تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا فتوكل على الله تدبیر پر بھروسہ نہیں کرنا۔یہ صحیح ہے کہ ہماری ہدایت کے مطابق تم نے اپنی تدبیر کو اس کی انتہا تک پہنچادیا لیکن یہ بھی درست ہے کہ محض تدبیر پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا کیونکہ جتنی بے وفائیاں دنیا کی تدابیر نے انسان سے کی ہیں ان کا کوئی شمار نہیں تدبیر پر کیسے بھروسہ کیا