انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 516
تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۵۱۶ سورة ال عمران پھول میں Nectar (نیکٹر ) بھی ہے جو شہد کا جزو بھی ہے لیکن اس حادثہ کی وجہ سے شہد نہیں بن سکتا اسلئے فرمایا کہ امت مسلمہ کو یا جماعت مومنین کو ایسا بناؤ کہ وہ صاحب الرائے ہوں اور ایسے ہوں کہ جن سے شہد کا ایک جزو Nectar (نیکٹر ) جو ہے یا رائے کی اصابت جو ہے وہ ان سے حاصل کی جاسکے اور ان کا نفس بیچ میں نہ آئے۔اب جو پھول ہے اس کا نفس بیچ میں نہیں آتا کوئی شخص کہہ سکتا ہے کہ بیچارے پھول نے اپنا نچوڑ شہد کی مکھی کے حضور پیش کر دیا اور آپ وہاں کھڑا ہے تو اس کا نفس تو بیچ میں نہیں آیا اس نے تو اپنے نفس کی بہترین چیز تھی اس کو اس کے حضور پیش کر دیا جس کی طرف اللہ تعالیٰ کی وحی تھی یعنی شہد کی مکھی کہ تم نے شفا کے سامان پیدا کرنے ہیں ایک ایسی جماعت بنے جو تقویٰ اور طہارت کی بنیادوں پر اپنی زندگیوں کو گزارنے والی ہو اللہ تعالیٰ سے جن کا تعلق پیدا ہو جن کا دعاؤں پر زور ہو جو واقعہ میں اُمت مسلمہ ہو یعنی ان کا اپنا کچھ بھی باقی نہ رہے اپنا سب کچھ اپنا وجود بھی اپنا ذہن بھی اپنی فکر کبھی اپنی ساری قوتیں اور طاقتیں اور زندگی اور موت سب خدا کے حضور پیش کردیں۔یہی اسلام ہے اسکے بغیر تو کوئی اسلام نہیں ہے۔غرض فرمایا عفو اور استغفار کے ذریعہ ایک ایسی جماعت بناؤ جو صاحب الرائے ہو مغلوب الغضب نہ ہو دھیمی ہو فدائی ہو مشورہ دیتے وقت یہ نہ سوچے کہ پھر اسکے بعد ہم پر کتنی ذمہ داریاں عائد ہو جائیں گی مشورہ دیتے وقت صرف یہ سوچے کہ آج اسلام کی زندگی کی بقا اور احیا اور اشاعت اور اس کے استحکام کے لئے جن چیزوں کی ضرورت ہے وہ ہمیں پیش کر دینی چاہئیں خواہ ہم بھوکے رہیں یا ہمارے بچے بھوکے رہیں یا ان کو کھانے کے لئے کچھ ملے۔خواہ ہم زندہ رہیں یا ہمیں اپنی جانوں کی قربانی دینی پڑے ہمیں اپنا سب کچھ خدا کے حضور پیش کر دینا ہے۔یہ جماعت جب پیدا ہو جائے پھر ان کا یہ حق بن جاتا ہے کہ وہ صاحب الرائے ہیں کیونکہ ان سے مشورہ لیا جاتا ہے شہر کا ایک جزو تیار ہو گیا۔دوسرا جز وعزم کے ساتھ تعلق رکھتا ہے اور عزم انہوں نے نہیں کرنا۔انہوں نے تو جو کچھ تھا پیش کر دیا تھا جس طرح چاہیں آپ اسکو استعمال کر سکتے ہیں۔پھول زبان حال سے مکھی کو یہی کہتا ہے کہ میرا نچوڑ تیرے حضور پیش، تو اب جس طرح چاہے اسکو استعمال کر لے اور جس طرح چاہے وہ استعمال بھی کرتی ہے کیونکہ اس میں اپنے Enzymes(انزائمز ) ملاتی ہے اس کو خشک کرتی ہے قوام بناتی ہے اپنے Enzymes (انزائمز ) ملاتی ہے اور پھر وہ فیصلہ کرتی ہے (اس میں انسان کا بھی تھوڑا سا