انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 515 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 515

تفسیر حضرت خلیفہ المسیح الثالث ۵۱۵ سورة ال عمران پس شَاوِرُهُمْ میں بتایا گیا ہے کہ جس طرح شہد کی مکھی پھول سے شہد کا استخراج اور اجتنا کرتی ہے اسی طرح تم مومنین کی جماعت کی آراء کا استخراج کرو کیونکہ شاور کے معنے استخراج الرائے اور شار العسل کے معنے استخراج العسل یعنی شہد کا نکالنا مثال بالکل واضح ہو گئی ہے ایک فرمایا کہ جس طرح اور جن سے چاہو آرا ء لو۔وہ جو دوسرا حصہ تھا کہ اپنی بیچ میں ملا کر اپنے جسم کی اپنی روح کی اور اپنے ذہن کی جب تک (اگر انسانی مثال ہو ) ساتھ نہ ملائی جائے شہر نہیں بنتاوہ مشورہ درست نہیں رہتا اس واسطے فَإِذَا عَزَمت۔وہ عزم جو ہے وہ کبھی والے Enzymes ( انزائمز) کی آمیزش ہے کہ جب آراء لے لیں وہ سامنے آگئیں پھر اپنے عزم اسکے اندر ملاؤ اور پھر وہ فیصلہ بنے گا ورنہ جب تک رسول یا نائب رسول کی اپنی رائے اپنا عزم اپنا فیصلہ اپنے Enzymes ( انزائمز ) (اس مثال کے لحاظ سے جو پھول سے حاصل کیا گیا اور مومنین کی جماعت سے یا ان کے نمائندوں سے آراء کی شکل میں حاصل کیا گیا ) اسکے اندر شامل نہ ہوں۔اس وقت تک نہ شہد بنے گا اور نہ وہ جو آراء دیں وہ پختہ بنیں گے اور مفید ہونگی اور نہ ایسی بنیں گی کہ جن کے اندر شفا ہو اور شفا میں بھی اللہ تعالیٰ نے دونوں کو برابر کر دیا۔شہد کے اندر بھی کہہ دیا کہ اسکے اندر شفا ہے اور جس رنگ میں احکام الہی کا اجراء کرنا ہے اسکے متعلق یہ کہا کہ اس کے اندر شفا ہے۔پس تیسری چیز یہ بتائی کہ شاوِرُهُم خالی آراء کافی نہیں بلکہ خوددعا کر کے اور اللہ تعالیٰ سے ہدایت طلب کر کے اور اپنی خدا داد فراست کو استعمال کر کے (یہ کتنی قسم کی Enzymes ( انزائمز ) ہیں اگر ان کو بطور مثال Enzymes ہی کہا جائے ) وہ ان آراء میں شامل کرو تب جا کر وہ چیز ایسا قوام اختیار کرے گی کہ بنی نوع انسان کے لئے وہ شفا بن جائے گی تدبیر اپنی انتہا کو پہنچ گئی۔یہاں تو فرمایا کہ تدبیر کرو جو اہم امور ہیں اُمت مسلمہ کے استحکام کے لئے اور تمکین دین کے لئے اور اصلاح انسانیت کے لئے اور تبلیغ واشاعت کے لئے بڑے امور ہیں تم پہلے تو ایک ایسی قوم تیار کرو کہ جو Nectar ( نیکٹر ) پیدا کر سکے یعنی بعض دفعہ ویسے تو اللہ تعالیٰ نے ہر پھول میں Nectar (نیکٹر ) یعنی وہ چیز پیدا کی ہے جو شہد کا ایک حصہ بن جاتی ہے لیکن بعض دفعہ ایسا حادثہ ہوتا ہے کہ پھول نظر آتا ہے لیکن وہ حصہ غائب ہوتا ہے کوئی بیماری ایسی بھی آجاتی ہے پس اگر چہ وہ پھول ہے اور عام