انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 514 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 514

تغییر حضرت خلیفة لمسیح الثالث ۵۱۴ سورة ال عمران تب جا کر وہ شہد بنتا ہے تب ہمیں وہ شہر ملتا ہے اور ہم اللہ تعالیٰ کا ہزار ہزار شکر کر کے شہد کے چھوٹے سے حصہ کو چاہتے ہیں پورے احساس کے ساتھ کہ اگر یہ کام شہد کی مکھی کی بجائے انسان کے سپر د ہوتا تو شاید لا کھ دولاکھ روپے کا ایک سیر شہد ملا کرتا اور یہ بات ایک عام انسان کی طاقت سے باہر ہوتی ہاں شیطان انسان جو ہے اس کی طاقت کے اندر ہوتی۔پس اصل مشاورت کا مخرج شار العسل کا جو عربی میں محاورہ ہے اس میں شوری کا جو لفظ ہے وہ ہے اور اس سے پھر آگے مشاورت نکالی اور مشورہ اور شوریٰ کا مضمون اس مثال سے بہت واضح ہو جاتا ہے یعنی جو مضمون یہاں بیان ہوا اگر یہ مضمون سامنے نہ ہو تو بہت سے پہلو مخفی رہ جائیں۔اس میں ایک تو یہ آ گیا ہے کہ یہ فیصلہ کرنا کہ کن پھولوں کا شہد یا کن انسانوں کی آراء طلب کرنی ہیں یہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یا آپ کے نائین کا کام ہے پھول کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ مکھی کو یہ کہے کہ تم گلاب کے پھول پر کیوں جارہی ہو جب کہ تم سے زیادہ قریب شیشم کا پھول موجود ہے یہ پھول کا کام ہی نہیں اور نہ اس کو اللہ تعالیٰ نے یہ طاقت دی ہے یہ مشاورت کرنے والے مشورہ لینے والے کا کام ہے کہ وہ کن لوگوں سے مشورہ لے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ مختلف شکلیں ہمیں حضرت میں اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں نظر آتی ہیں۔آپ کے بعض ایسے مشیر بھی تھے کہ مجھے یہ شبہ ہے میری بعد طبیعت پر یہ اثر ہے کہ شاید تاریخ نے بھی ان سب کے نام محفوظ نہیں رکھے کیونکہ آپ ان کو خفیہ طور پر بلا لیتے تھے اور جس معاملے کے متعلق مشورہ لینا ہوتا آپ ان سے مشورہ لے لیا کرتے تھے بعض کے نام آئے ہیں اس سے ہمیں پتہ لگ گیا کہ اس طرح بھی آپ مشورہ لیتے تھے اور بعض دفعہ آپ سب کو جمع کر لیتے تھے بعض دفعہ نمائندے آجاتے تھے اور آپ کی یہ سنت تھی اور خلفائے راشدین کی بھی یہ سنت تھی اس وقت بھی یہ سنت تھی جس زمانے میں بھی یہ رہی ہے کہ نمائندگی کے طور پر ساری جماعت تو یہاں اکٹھی نہیں ہو سکتی۔زیادہ سے زیادہ یہ ہو سکتا ہے کہ مشورہ کے لئے ربوہ کے مکینوں کو اکٹھا کر لیا جائے چونکہ جماعت پھیل گئی اللہ تعالیٰ نے بڑا فضل کیا ایک آواز جو ایک منہ سے نکلا کرتی تھی اب وہی آواز لاکھوں کروڑوں کے منہ سے نکل رہی ہے سارے اکٹھے ہو کر کس طرح رائے دے سکتے ہیں یا ان سے رائے لی جاسکتی ہے نمائندگی کا اصول ہمیں چلانا پڑے گا مگر جب ضرورت ہو تو دوسری طرح بھی مشورہ ہو جائے گا۔