انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 512 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 512

تغییر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۵۱۲ سورة ال عمران کی جماعت اگر بشری کمزوریوں کے نتیجہ میں باوجود مخلص اور فدائی ہونے کے غفلتیں کر جائیں تو اے خدا! تو ان کی مدد کو آ اور ان کی کمزوریوں ، گناہوں اور غفلتوں کو اپنی مغفرت کی چادر میں ڈھانپ لے اور ایسے سامان پیدا کر دے کہ ان کی اصلاح احوال ہو جائے۔پس صرف یہ معنے نہیں ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو زبان سے توبہ کی توفیق دے کیونکہ مغفرت کے معنی میں قول اور فعل سے مغفرت طلب کرنا ہے غرض یہاں یہ دعا ہے کہ اے خدا! تو ان لوگوں کو یہ توفیق دے کہ اپنی زبان سے بھی تیرے حضور تو بہ کرتے ہوئے عاجزانہ طور پر گر جائیں اور اپنے افعال کی بھی اس طرح اصلاح کریں کہ دنیا بھی یہ مشاہدہ کرے کہ ان لوگوں کی زندگیوں میں ایک تبدیلی پیدا ہوگئی ہے۔اقرب میں ہے اَصْلَحَهُ بِمَا يَنْبَغِي أَنْ يُصْلِحَ بِهِ “۔یہ بھی استغفار کے معنوں کے اندر ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے سامان پیدا کر دے یا انسان کو ایسے ذرائع میسر آجائیں کہ جو اصلاح احوال کا سامان پیدا کر دیں پھر چونکہ اس رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ابدی زندگی عطا کی گئی ہے اور یہ ابدی زندگی دورنگوں میں ہمارے سامنے آتی ہے ایک تو آپ کا افاضہ روحانی قیامت تک جاری ہے اور دوسرے آپ سے انا اَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ ( الكوثر : ٢) میں اور بعض دوسری جگہ بھی یہ وعدہ ہے کہ قیامت تک محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام اور بندے پیدا ہوتے رہیں گے جو آپ کے دین کی مدد کرنے والے ہونگے اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا کرنے والے ہونگے اور قرآن کریم کے ظاہر و باطن کی حفاظت کی فرشتوں کی طرح وہ بھی توفیق پائیں گے۔پس فرمایا کہ ایک تو کوشش کرو کہ جماعت مومنین کی اصلاح ہو جائے دوسرے ان کے لئے بڑی دعائیں کرو کہ وہ اپنی غلطیوں کے بدنتائج اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی سے محفوظ رہیں اور اپنی زبان سے بھی تو بہ کرنے والے ہوں اور ان کے اعمال بھی دُھلے ہوئے صاف شفاف کپڑے کی طرح ہو جائیں اور اللہ تعالیٰ کی رضا کی کرنیں ان کے وجود میں سے باہر آرہی ہوں یہ کرنے کے بعد شَاوِرُهُم في الأمر پھر یہ جماعت اس بات کی مستحق ہو گی کہ ان سے مشورہ کیا جائے۔آج جب میرے ذہن کو اس طرف متوجہ کیا گیا کہ میں اس آیت پر خطبہ دوں تو میں نے پھر ا قرب اور لغت کی بعض دوسری کتابیں دیکھیں چنانچہ ایک بڑی اور حسین چیز میرے سامنے آئی اور وہ