انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 513 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 513

تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۵۱۳ سورة ال عمران یہ کہ مشاورت جو ہے اس کا روٹ یعنی اس کا مخرج شَارَ الْعَسُل ہے یعنی شہد نکالنا۔اور اس شار العسل کے معنے ہوتے ہیں اسْتَخْرَجَهُ وَاجْتَنَاهُ جس طرح مکھی کا جو کام ہے نا پھول سے اپنی مرضی کے مطابق وہ چیز حاصل کرنا جس سے کبھی نے شہد بنانا ہے یعنی Nectar (نیکٹر ) جو پھول سے لیتی ہے۔شہد کی مکھی کے بارے میں اب جونئی تحقیق ہوئی ہے اس سے یہ پتہ لگتا ہے کہ وہ اپنی مرضی سے ایک پھول کا انتخاب کرتی ہے اور پھر اس پھول سے وہ شہد بناتی رہتی ہے یعنی پھول کا ایک حصہ لیتی ہے اور اپنے جسم کا ایک حصہ اس میں داخل کرتی ہے اس طرح پر شہد بنتا ہے۔بہت سے دوستوں کو اس کا علم نہیں وہ سمجھتے ہیں کہ شہد صرف پھولوں کے رس سے بنتا ہے۔یہ درست نہیں ہے شہد میں قریباً پچاس فیصد پھول کے رس کا حصہ ہے اور قریباً پچاس فیصد مکھی کے اپنے غدود میں سے ایک چیز نکلتی ہے مختلف قسم کے Enzymes (انزائمز) اور مختلف قسم کی دوسری چیزیں وہ شہد میں ملاتی ہے یعنی وہ جو پھول کا حصہ ہے اس کے اندر ملاتی ہے تب جا کر شہد بنتا ہے۔پس دونوں برابر کے حصے جارہے ہیں جہاں تک اسکے معنے کا سوال ہے لیکن جہاں تک محنت اور کوشش کا سوال ہے حقیقت یہی ہے کہ پھول نے شہد بنانے کے لئے کوشش نہیں کی کبھی پھول نے بھی جا کر اپنے شہد کو کھیوں کے چھتے تک پہنچایاہے شہد کی مکھی جو ہے اس کی ساری کوشش شہد بنانے کی ہے اور اس طرح اللہ تعالیٰ کی وحی کے مطابق وہ اپنے اس کام میں لگی ہوتی ہے۔جن لوگوں نے شہد کی مکھیوں اور ان کے چھتوں پر تحقیق کی ہے وہ یہ کہتے ہیں کہ شہد کی مکھی کے چھتے کے نیچے کبھی کوئی مردہ کبھی نہیں ملے گی اور وہ اس کی وجہ یہ بتاتے ہیں کہ کام کرتے ہوئے کبھی پھول کے قریب ،کبھی پھول اور اپنے چھتے کے درمیان مرکز گر جاتی ہے یعنی وہ اپنے کام کے لحاظ سے ایک قسم کی شہید ہی ہے کام کے اندر اسکی جان نکلتی ہے وہ آخری سانس تک کام کرتی رہتی ہے۔یکھی پھول کے اندر سے اپنی مرضی سے انتخاب کر کے وہ حصہ جسے انگریزی میں Nectar (ٹیکٹر ) کہتے ہیں تھوڑا سا پتلا مایہ ہوتا ہے جو شہد کی طرح کا قوام نہیں رکھتا بلکہ شہد کی نسبت پھول میں اس چیز کی حالت پانی کے زیادہ قریب ہے لیکن مکھی پھر اسے وہاں سے لے کر آتی ہے پھر اسکو اپنی زبان پر رکھ کر خشک کرتی ہے اور ہزاروں لاکھوں دفعہ زبان باہر نکال کر اندر منہ میں لے جاتی ہے اور اس حرکت سے وہ اسے قوام کی شکل دیتی ہے پھر اپنے Enzymes (انزائمز ) بیچ میں ملاتی ہے