انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 511 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 511

تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۵۱۱ سورة ال عمران جائے گا تو مسلمانوں کا کیا فرض ہے؟ مسلمانوں کا یہ فرض ہے کہ جو انہوں نے اپنے خدا کے ہاتھ پر ہاتھ دے کر خدا اور خلیفہ وقت کے لئے عہد اطاعت باندھا تھا اس کو وہ پورا کریں اور کامل اطاعت کا نمونہ دکھاتے ہوئے خلیفہ وقت کے فیصلوں کی تعمیل میں لگ جائیں۔لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ دنیا کی بہتر سے بہتر جزا اور اُخروی زندگی میں اعلیٰ سے اعلیٰ ثواب انہیں ملے گا۔لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ - ود ( خطبات ناصر جلد دوم صفحه ۱۰۰ تا ۱۰۸) ایک آیت کا کچھ حصہ اور ایک پوری آیت میں نے اس وقت تلاوت کی ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ فَاعْفُ عَنْهُمْ تو ان سے در گزر کر۔عضو کے معنی یہ ہیں کہ ایسا برتاؤ کرنا ایسا سامان پیدا کرنا کہ جو کمزوریوں اور غفلتوں کے بدنتائج ہوں ان سے وہ شخص جس سے در گذر کیا جائے محفوظ رہے محض یہ معنے نہیں ہیں کہ معاف کر دیا بلکہ اس کے اندر یہ معنی بھی آجاتے ہیں کہ اس رنگ میں معاف کیا کہ اگلے کی اصلاح ہو گئی۔محض معافی جو ہماری زبان میں معافی کہلاتی ہے عربی زبان میں عفو کے محض یہ معنے نہیں ہیں بلکہ عفو کے معنوں کے اندر یہ بات بھی آتی ہے کہ ایسے رنگ میں درگز رکیا جائے کہ اس شخص کی اصلاح ہو جائے اور توبہ کی اسے توفیق ملے کیونکہ تو بہ ہی ایک ایسا دروازہ ہے جس سے انسان پچھلے گناہوں کے عذاب اور مضرتوں سے بچتا ہے۔پس عفو کے یہ معنی ہوئے کہ ایسے رنگ میں معاف کیا جائے کہ اصلاح ہو اور توبہ کی توفیق ملے اور جو غلطیاں ہو چکی ہیں ان کے بدنتائج سے وہ شخص محفوظ ہو جائے۔اسی مصدر سے عافاہ بھی نکلا ہے جسکے معنے ہیں رَفَعَ عَنْهُ كُلّ سُوءٍ “ یعنی ہر قسم کی تکلیف اور دکھ کو اس سے دور کر دیا۔پس اللہ تعالیٰ نے یہاں حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے غلام نائبین کو یہ حکم دیا ہے کہ مومنوں کی جماعت سے اس طرح کا سلوک کیا جائے کہ در گذر بھی ہو اور اصلاح بھی ہو اور بدنتائج سے ان کی حفاظت بھی ہو۔دوسرے فرمایا وَ اسْتَغْفِرْ لَهُمُ اس کے معنی لغت کے لحاظ سے یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ سے یہ بھی دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ ان کی کمزوریوں اور غفلتوں اور گناہوں کے بد نتائج اور عذاب سے ان کی حفاظت کرے یعنی خود بھی یہ کوشش کرو کہ جو غفلتیں ہو گئی ہیں ان کے بدنتائج سے وہ محفوظ ہو جا ئیں اور اپنی کوشش پر ہی بھروسہ نہیں کرنا بلکہ اللہ تعالیٰ کے حضور جھک کر اس سے یہ بھی استدعا کرنی ہے کہ مومنوں