انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 469
تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۴۶۹ سورة ال عمران نہیں فرمایا بلکہ یہ فرمایا کہ جس نے قبلہ رُخ ہو کر نماز ادا کی ، ہاتھ باندھا یا چھوڑا، اس کے حقوق ایک مسلمان کے حقوق ہیں، یہ ادا ہونے چاہئیں۔یہ اللہ تعالیٰ نے ایک عہد باندھا ہے اور اسی کی طرف حدیث کے شارحین کی توجہ گئی ہے کہ یہ ایک عہد ہے جس کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے امت م ڈالی ہے شارحین نے یہ لکھا ہے کہ (جو شخص محولہ بالا حدیث کی رو سے مسلمان کہلاتا ہے ) وہ خدائی حفاظت اور امان میں ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ اے مسلمانو! تم نے اس کی جان کی بھی حفاظت کرنی ہے تم نے اس کے مال کی بھی حفاظت کرنی ہے۔تم نے اس کی عزت کی بھی حفاظت کرنی ہے۔یہ نہیں کہ ایک شخص نماز مسلمانوں والی ادا کرتا ہے اور قبلہ رُخ ہو کر نماز ادا کرتا ہے اور ذبیحہ کھاتا ہے اور غیر ذبیحہ سے پر ہیز کرتا ہے، تم اپنی طرف سے کچھ اصول بنا کر اسے گالیاں دینے لگ جاتے ہو۔خدا معلوم گندہ دہانی مسلمانوں کے ایک گروہ میں کہاں سے آگھسی ہے وہ سمجھتے ہیں کہ گندی زبان اور فحش کلامی سے ثواب حاصل ہوتا ہے حالانکہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں فرمایا ہے جس کی شارحین نے بڑی وضاحت سے یہ تشریح کی ہے کہ ہر وہ شخص جو نماز مسلمانوں کی قبلہ رُخ ہو کر پڑھنے والا اور ہماری طرح ذبیحہ کھانے والا ہے اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ سے یہ عہد لیا ہے کہ اس کی جان اور مال اور عزت کی حفاظت کی جائیگی اور جو شخص اس کی جان اور مال اور عزت کی حفاظت نہیں کرتا۔وہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد اور آپ کے اسوہ اور قرآن کریم کی ہدایت کے خلاف کرتا ہے آپ نے بڑی تاکید سے فرمایا ہے کہ یہ اللہ کا عہد ہے اس کو نہ توڑنا ورنہ کیا ہوگا ؟ آگے کچھ نہیں فرمایا کیونکہ ہر عقلمند آدمی جانتا ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کا عہد توڑتا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ اس سے جو معاملہ کرتا ہے وہ مالک ہے۔انسان کو تو لرزاں اور ترساں اپنی زندگی کے دن گزار نے چاہئیں۔شارحین نے اس حدیث کی شرح میں لکھا ہے کہ فَذَلِكَ الْمُسْلِمُ الَّذِي لَهُ ذِمَّةُ اللهِ وَذِمَّةُ رَسُولِہ میں خِمَّةُ الله اور ذِمَّةُ رَسُولِہ کے معنی یہ ہیں کہ آمَا نُهُمَا وَعَهْدُهُمَا ، یعنی ایسا انسان الله تعالیٰ اور رسول کی حفاظت اور امان میں اور اللہ تعالیٰ اور رسول نے جو عہد کیا ہے اس عہد کے اندر آجاتا ہے۔پھر فَلَا تُخْفِرُوا الله في ذِمَّتِہ کی تشریح یہ کی گئی ہے کہ لَا تَخُونُوا اللهَ فِي عَهْدِهِ۔اللہ تعالٰی نے ایک عہد باندھ دیا ہے اس میں خیانت نہیں کرنی اور فَلَا تَتَعَرَّضُوا فِي حَقِّهِ ( مرقاۃ شرح مشکوۃ صفحہ ۷۴