انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 468
تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۴۶۸ سورة ال عمران ہو اور جو چیزیں کھانے کے لحاظ سے حرام ہیں ان سے بچنے والا ہو تو ذلِكَ الْمُسْلِمُ۔یہ وہ مسلمان ہے ( آگے یہ نہیں فرمایا کہ جس سے اللہ تعالیٰ راضی ہوتا ہے کیونکہ اور بہت ساری شرائط ہیں مثلاً نیت کا تعلق۔احسان فی العمل کا تعلق ہے انسان پوری شرائط اور انتہائی جدو جہد کے ساتھ اعمالِ صالحہ کو خوش اسلوبی سے انجام دینے والا ہو ، وہ اور چیزیں ہیں یہاں یہ فرمایا یہ وہ مسلمان ہے ) جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی امان اور حفاظت میں ہے پس اے مسلمانو ! جو عہد اللہ تعالیٰ نے تمہارے درمیان باندھا ہے کہ تم ہر ایسے شخص کو ( محولہ بالا حدیث کی رو سے ) مسلمان سمجھتے ہوئے اس کے سیاسی اور معاشرتی حقوق کو ادا کرو گے، اس عہد کو نہیں توڑنا۔غرض وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا میں ایک اصولی بات بتائی تھی اس کی بہت سی تفسیریں کی گئی ہیں ایک تفسیر حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بیان فرمائی ہے کہ جو شخص ہماری طرح کی نماز پڑھتا ہے اور قبلہ رخ ہو کر نماز ادا کرتا ہے۔ویسے ہم ہر دعا کے وقت قبلہ رخ نہیں ہوتے مثلاً عید کی نماز ہے یا خطبہ جمعہ میں بھی امام دعا ئیں کر رہا ہوتا ہے حالانکہ اس وقت قبلہ کی طرف اس کی پشت ہوتی ہے۔اس کی روح تو قبلہ حاجات کی طرف ہی متوجہ ہوتی ہے لیکن اس کا چہرہ دوسری طرف ہوتا ہے اور پشت قبلہ کی طرف ہوتی ہے لیکن نماز ادا کرتے وقت ہم قبلہ رخ ہوتے ہیں۔اس میں میرے نزدیک ایک بڑا ہی لطیف اشارہ بھی ہے مسلمانوں میں کئی فرقے پیدا ہو گئے ہم ہاتھ باندھ کر نماز پڑھتے ہیں لیکن بعض لوگ مثلاً مالکی اور غالباً شافعی بھی نماز کے وقت ہاتھ چھوڑ دیتے ہیں البتہ ایک مسلمان ہاتھ باندھ کر نماز پڑھ رہا ہے یا ہاتھ چھوڑ کر پڑھ رہا ہے اس کا رُخ قبلہ کی طرف ہوتا ہے۔پس اسْتَقْبَلَ قِبلَتنا میں یہ اشارہ فرمایا ہے کہ ادائیگی نماز میں بھی اُمت میں اختلاف ہو سکتا ہے اور بعض دیگر چھوٹی چھوٹی باتوں میں بھی اختلاف ہو سکتا ہے لیکن ادا ئیگی نماز میں بنیادی چیز یہ ہے کہ قبلہ کی طرف رُخ ہو جس کا قبلہ کی طرف رُخ ہے اسے تم یہ کہہ کر مسلمان کے حقوق سے محروم نہیں کر سکتے کہ تم نے ہاتھ باندھ کر نماز پڑھی یا ہاتھ چھوڑ کر نماز پڑھی۔جہاں جس کا زور ہے وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ چونکہ تم ہاتھ چھوڑ کر نماز پڑھتے ہو یا چونکہ ( دوسری جگہ کوئی کہے ) تم ہاتھ باندھ کر نماز پڑھتے ہو اس لئے تمہیں مسلمانوں کے حقوق سے محروم کیا جائے گا۔حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ