انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 470 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 470

تغییر حضرت خلیفة المسح الثالث ۴۷۰ سورة ال عمران جلد 1) جو حق اس کا قائم کیا گیا ہے۔اس میں تعرض نہیں کرنا اور اس کو ضائع کر کے فساد کے حالات نہیں پیدا کرنے۔علاوہ ازیں اس کے یہ بھی معنے ہیں کہ مِن مَالِهِ وَدَمِهِ وَعِرْضِهِ" (مرقاۃ شرح مشكوة صفحہ ۷۴ جلد (1) یعنی اس کے مال کی حفاظت بھی اور اس کی جان کی حفاظت بھی اور اس کی عزت کی حفاظت بھی تمہارے ذمہ ہے۔پس وَاعْتَصِبُوا بِحَبْلِ اللهِ جَمِيعًا میں اللہ تعالیٰ نے ایک بڑی ہی حسین اور وسیع تعلیم دی ہے اور اگر اُمت مسلمہ اس پر عمل کرے اور یہی خدا اور اس کا رسول چاہتے ہیں تو پھر ایک ایسی حسین فضا اور معاشرہ پیدا ہوتا ہے جس کے متعلق حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے اخْتِلَافُ أُمتى رحمة “بھائی بھائی میں اختلاف ہوتا ہے میاں بیوی میں اختلاف ہوتا ہے ماں بیٹی میں اختلاف ہوتا ہے باپ بیٹے میں اختلاف ہوتا ہے خدا تعالیٰ نے اپنی ہر خلق میں اپنی ایک شان ظاہر کی ہے کثرت مزاج انسانی وحدت خالقِ انسانی ثابت کرتی ہے چنانچہ آپ نے فرمایا کہ تمہاری طبیعیتوں ، مزاج اور عادات کے اندر اختلاف تو ہوتا ہے مثلاً کھانے میں ہزار اختلاف ہوتا ہے جس خاندان میں کھانے والے افراد زیادہ ہوں وہاں بڑی مشکل پڑ جاتی ہے اور کئی دفعہ بعض نا سمجھوں کو اعتراض کا موقعہ بھی مل جاتا ہے۔خطبات ناصر جلد سوم صفحه ۴۳۱ تا ۴۳۵) پس انسان کو ہر دم اور ہر آن اللہ تعالیٰ کی ہدایت کی ضرورت ہے اس لئے وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللهِ جبيعا میں حبل اللہ کے معنے ہمارے بزرگ صلحاء (لغت کے ماہرین نے بھی اور مفسرین نے بھی ) یہ کئے ہیں کہ وہ ذرائع جو وصلِ الہی تک پہنچانے والے ہوں حبل اللہ کہلاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے حضرت امام راغب کو بڑی فراست عطا کی تھی اُنہوں نے قرب الہی کے ذرائع میں سے نمبر 1 قرآن کریم کو ٹھہرایا ہے یعنی شریعت قرآنیہ جو حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہوئی۔گو اصل روحانی ذریعہ تو یہی ہے مگر اُنہوں نے ساتھ ہی عقل کو دوسرا ذریعہ قرار دیا ہے۔عقل خدا تعالیٰ نے پیدا کی ہے اس کا بھی ایک مصرف ہے انسان اس سے فائدہ اُٹھاتا ہے بشرطیکہ یہ اندھیروں میں بھٹکتی نہ پھرے بشرطیکہ اسے الہی رہنمائی حاصل رہے ورنہ جس طرح قانون اندھا ہے اسی طرح عقل بھی اندھی ہے۔انسان کی عقل نے یہ تو تسلیم کر لیا کہ آج کا قانون جسے انسانی عقل نے بنایا ہے، وہ اندھا ہے لیکن یہ تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں کہ جس عقل نے اندھا قانون بنایا ہے وہ خود