انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 461
تغییر حضرت خلیفة المسح الثالث ۴۶۱ سورة ال عمران تیسری جگہ پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال اور احادیث ہیں۔جہاں تک قرآن کریم کا تعلق ہے اس میں ایک تو وہ ابدی صداقتیں اور بنیادی ہدایتیں ہیں جو اس دن سے کہ قرآن کریم دنیا میں نازل ہوا قابل عمل ہیں اور اس وقت تک قابل عمل رہیں گی کہ دنیا پر قیامت آ جائے۔پھر وقتی اُلجھنوں کو سلجھانے کے لئے قرآن کریم بعض ہدایتیں دیتا ہے جو جزئیات سے تعلق رکھتی ہیں اور جو وقت کا مطالبہ ہوا سے پورا کرتا ہے۔پہلے زمانوں میں بھی پورا کرتا آیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں بھی پورا کر رہا ہے اور آپ کے خلفاء کے زمانہ میں بھی پورا کرتا چلا جائے گا اور جیسا کہ پہلے ہوا اگر خدانخواستہ کبھی خلافت کا سلسلہ منقطع ہوا تو اولیاء اللہ پیدا ہوتے رہیں گے جو وقت کے تقاضوں کے مطابق قرآن کریم سے نور لے کر دنیا کے اندھیروں کو دور کرتے رہیں گے۔تو پہلی چیز تو قرآن کریم ہے جس کے ذریعہ سے جسے پڑھ کے، جسے سمجھ کے، جس کی تفاصیل کا علم حاصل کر کے اور پھر اس کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھال کر ہم اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کر سکتے ہیں۔پس پہلے تو یہ بتایا کہ تم نے ایک عہد باندھا ہے اسے مضبوطی سے پکڑے رکھنا اور ساتھ ہی اسی لفظ میں ایک دوسرے معنی کے لحاظ سے ہمیں یہ بتایا کہ اس عہد کو مضبوطی سے کیسے پکڑا جا سکتا ہے ( یعنی قرآنی ہدایت و شریعت پر عمل کر کے اور اسے حرز جان بنا کر )۔اور حبل اللہ کے تیسرے معنی ہیں وصل اور وصال کے، مقام قرب کے حصول کے۔تو فرمایا کہ جب تم اللہ تعالیٰ تک پہنچ جاؤ اور تمہیں اس کا قرب حاصل ہو جائے تو اس مقام قرب کی حفاظت کرتے رہنا اور صدق و وفا کے ذریعہ شیطانی حملوں سے اسے بچانا۔تو پہلے یہ کہا کہ اپنے عہدوں پر مضبوطی سے قائم رہو۔پھر یہ فرمایا کہ ان عہدوں پر مضبوطی سے قائم ہونے کے یہ معنی ہیں کہ وہ راستے وہ طریق جو قرآن کریم نے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ نے اور آپ کے ارشادات نے خدا تعالیٰ تک پہنچنے کے لئے تمہیں بتائے ہیں ان کو لازم پکڑو۔اس۔طرح تم خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کر لو گے۔تیسرے یہ حکم دیا کہ جب تم مقام قرب کو پا لو تو پھر بھی تم شیطان سے محفوظ نہیں جب تک کہ اسی حالت میں وفات نہ ہو جائے اور انسان کا انجام بخیر نہ ہو جائے۔اس سے پہلے شیطان ساری زندگی میں انسان پر حملہ آور ہوتا رہتا ہے۔اپنی پوری کوشش کرتا