انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 460 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 460

تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالثة ۴۶۰ سورة ال عمران جلووں میں تنوع کی جھلک کا مشاہدہ کر لیا جب اس کی عظمت اور جلال کے نتیجہ میں اس کا خوف دل میں پیدا ہو گیا اور جب اس کی صفات حسنہ نے دل میں اس کے لئے انتہائی محبت کا سمندر موجزن کر دیا تو اس کی مخلوق کے ساتھ انسان کی شفقت اور پیار خود بخود قائم ہو جانا چاہیے اور قائم ہو جاتا ہے کیونکہ یہ اعتصام باللہ کا طبعی فطرتی نتیجہ ہے۔اس سے یہ بھی پتہ لگتا ہے کہ وہ اختلاف جو تفرقے اور انتشار کا باعث ہے وہ ہمیں یہ بھی بتاتا ہے کہ تقویٰ کا فقدان ہے۔زبان سے دعوی کرنا آسان ہے مگر عمل سے ثابت کر دکھانا مشکل ہے۔(خطبات ناصر جلد چهارم ۴۱۵ تا ۴۲۱) وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللهِ جَمِيعًا کے ارشاد میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں تین حکم دیئے ہیں۔ا۔حبل اللہ کے ایک معنی عہد کے ہیں جو اللہ تعالیٰ سے کیا جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے یہاں یہ فرمایا کہ اے مومنو! جنہوں نے خدا کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اس کے رسول کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر اپنے رب سے ایک عہد بیعت باندھا ہے تم اس عہد پر مضبوطی سے قائم رہنا کیونکہ جولوگ خدا سے عہد باندھ کر بعد میں اسے بھول جاتے ہیں یا اسے توڑ دیتے ہیں اور اس عہد کی ذمہ واریوں کو نبھاتے نہیں۔اللہ تعالیٰ ایک دن ان سے اس عہد کے توڑنے یا اس کی ادائیگی میں غفلت برتنے کے متعلق ضرور سوال کرے گا۔۲۔دوسرا حکم اس میں یہ ہے کہ حبل اللہ کے دوسرے معنی ہیں وہ تمام وسیلے اور ذرائع اور تدابیر جن کو اختیار کر کے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کیا جا سکتا ہے چنانچہ مفردات راغب (کتاب الحاء صفحہ ۱۰۷) میں اس کے یہ معنی دیتے ہیں۔الَّذِي مَعَهُ التَّوَضُلُ بِهِ إِلَيْهِ مِنَ الْقُرْآنِ وَالْعَقْلِ وَغَيْرِ ذَلِكَ مِمَّا إِذَا اعْتَصَبْتَ بِهِ أَذَاكَ إِلى جَوَارِہ کہ وہ تمام وسیلے اور تدبیریں جن کو جب مضبوطی سے پکڑا جائے اور ان پر عمل کیا جائے تو اللہ تعالیٰ کے قرب تک پہنچا دیتے ہیں۔جس میں سے انہوں نے بطور مثال کے قرآن کریم اور عقل انسانی کا ذکر کیا ہے اور یہ بتانے کے لئے کہ بہت سی باتیں ہیں جو اس میں شامل ہیں وغیر ذلک کے الفاظ رکھ دیئے ہیں۔تین بڑی چیزیں ہیں جو قرب الہی کی راہوں کو ہم پر منکشف کرتی ہیں۔سب سے پہلے سب سے اہم تو قرآن کریم ہے جس نے شریعت کی تمام باتوں کو کھول کھول کر بیان کر دیا ہے۔اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ حسنہ ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی عملی زندگی میں قرآن کریم کی تصویر کامل اور مکمل طور پر ہمارے سامنے پیش کی اور