انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 462
تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۴۶۲ سورة ال عمران ہے کہ خدا کا وہ بندہ ہے جس نے اعمال صالحہ اور مجاہدات کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل کو جذب کر کے اس کے قرب اور اس کی رضا کو حاصل کیا تھا وہ شیطان اس بندہ خدا کو اس مقام سے پرے ہٹا دے۔جیسا کہ مذہب کی تاریخ میں اس کی بہت سی مثالیں ملتی ہیں کہ خدا کے بعض بندوں نے اس کا قرب حاصل کیا۔بعد میں شیطان نے ان پر کامیاب حملہ کیا اور مقام رفعت سے گرا کے انہیں نار جہنم میں دھکیل دیا۔جیسا کہ خود حدیث میں آتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بعض صحابہ کے متعلق کہیں گے کہ یہ میرے صحابہ تھے ، جہاں تک میر اعلم ہے انہوں نے میری باتوں کو سنا اور مانا اور ان پر عمل بھی کیا، ان کو جہنم کی طرف کیوں لے جایا جا رہا ہے۔تو آپ کو بتایا جائے گا کہ آپ کی وفات کے بعد جو بداعمالیاں ان سے سرزد ہوئیں ، آپ ان سے واقف نہیں اور یہ لوگ اس مقام رفعت کو قائم نہیں رکھ سکے، اس مقام سے گر گئے اور آج اللہ تعالیٰ کے غضب اور اس کی لعنت کا مورد بن گئے ہیں۔تو تیسرا حکم ہمیں وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللهِ جَمِيعًا میں اللہ تعالی نے یہ دیا ہے کہ جب تم میری رضا کو اس دنیا میں حاصل کرلو، میرے قرب کو پا لو تب بھی مطمئن نہ ہو جانا کہ تمہاری قربانیاں اور مجاہدات جو تم کر چکے ہو وہی کافی ہیں اور میری رضا کے مقام پر قائم رہنے اور اس میں مزید ترقی کرنے کے لئے تمہیں کچھ اور نہیں کرنا۔اس وقت بھی آگے سے آگے تمہارا قدم جانا چاہیے۔تمہاری پہلی قربانیاں بعد میں آنے والی قربانیوں کے مقابلہ میں بیچ نظر آنے لگیں۔پوری کوشش تمہیں کرنی پڑے گی کہ شیطان تم پر کامیاب حملہ نہ کر سکے حملہ تو وہ ضرور کرتا ہے اور کرتا رہے گا لیکن اصل بات یہ ہے کہ انسان شیطان کے حملوں سے اپنے آپ کو بچائے اور اس کے دام فریب میں اپنے آپ کو نہ آنے دے۔تو یہ تین معنی وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللہ کے ہیں اور معانی کی اس ترتیب سے جو میں نے بیان کی ہے اللہ تعالیٰ نے درجہ بدرجہ ہمیں تین سبق دیئے ہیں اور ہوشیار کیا ہے اور متنبہ کیا ہے اور ہمیں ڈرایا ہے اس بات سے کہ اگر تم عہد توڑو گے تب بھی تباہی۔عہد کے نباہتے وقت قرآن کریم سے منہ موڑو گے تب بھی ہلاکت۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ اور آپ کے ارشادات کی عظمت قائم نہیں کرو گے تب بھی شیطان کا کامیاب وار تم پر ہو جائے گا اور پھر جب تم یہ سب کچھ کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرلو گے تو اس وقت بھی مقام خوف رہے گا۔جب تک تم اس دنیا میں زندہ ہو، جب تک تم اپنے انجام کو نہ پہنچ جاؤ اس وقت تک چوکس اور بیدار رہ کر اپنے مقام رفعت اور مقام روحانیت کی