انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 453 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 453

تفسیر حضرت خلیفہ المسیح الثالث ۴۵۳ سورة ال عمران اُم القریٰ کی یہ اصطلاح ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ قرآنی ہدایت اور شریعت کو مستحکم کرنے اور اسلام کو پھیلانے کی غرض سے مکہ اور مدینہ کے ماتحت بہت سے اور مراکز بھی بنیں گے۔چنانچہ جب ہم اپنی تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں مختلف اوقات میں مختلف جگہوں پر کئی ایسے مراکز نظر آتے ہیں جن کا تعلق مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ سے ہے مثلاً سین ہے۔سپین میں اسلامی حکومت کا جو دارالخلافہ تھا ایک دو جگہ بدلا بھی ہے تاہم ایک وقت میں جو بھی دارالخلافہ تھا) وہ یورپ میں اسلام کے نور کو پھیلانے اور اسلام کی اشاعت کیلئے مرکز کی حیثیت اختیار کر گیا۔اسی طرح تاشقند وغیرہ علاقوں میں جو مجدد پیدا ہوئے یا افریقہ کے صحراؤں سے تعلق رکھنے والے جو مجد دین اور اولیاء اللہ آئے ان کے مرکز خانہ کعبہ ہی کے طفیل اور اس کے ظل کے طور پر اس غرض کیلئے بنے تھے کہ اسلام کی اشاعت ہو۔گویا ایسی جگہیں اپنے اپنے دائرہ اور اپنے اپنے زمانہ کے لحاظ سے اشاعت اسلام کا مرکز بن گئیں اور مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ ام القری ٹھہرے۔خطبات ناصر جلد پنجم صفحه ۳۴۱ تا ۳۴۲) تعمیر نو جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ہاتھ سے اللہ تعالیٰ نے کروائی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ا بعثت سے قریباً دو ہزار سال قبل اس میں تمیس مقاصد ملحوظ تھے۔اور میں نے بتایا کہ سارے کے سارے مقاصد ایسے تھے جن کا تعلق حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانہ سے نہیں تھا نہ اس زمانہ سے تھا جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے قبل کا زمانہ تھا۔نہ اس زمانہ سے تھا جو حضرت ابراہیم کے زمانہ سے بعد کا زمانہ محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی بعثت تک کا زمانہ تھا بلکہ یہ سارے ہی مقاصد محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی بعثت سے تعلق رکھتے تھے اور جو چار بنیادی فرائض آپ کے تھے اور جو مقاصد تھے آپ کی بعثت کے، ان چاروں سے تعلق تھا ان مقاصد کا۔مثلاً قرآن کریم نے ہمیں بتایا کہ ان اَوَلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِى ببكة که نوع انسان جو ہے ساری کی ساری، سب انسانوں کیلئے پہلا گھر ، افادیت کے لحاظ سے، خدا تعالیٰ کی نعمتوں کے حصول کے لحاظ سے، دنیوی ترقیات کے لحاظ سے، روحانی رفعتوں کے لحاظ سے، جو تعمیر کیا گیا جس کی بنیاد رکھی گئی ، وہ بیت اللہ ہے۔حضرت ابراہیم اللہ علیہ السلام نے یہ اعلان بعثت نبوی سے قریباً دو ہزار سال پہلے کیا اس وقت جبکہ دنیا کی آبادی کی اکثریت شاید خانہ کعبہ کا نام بھی نہیں جانتی تھی جس وقت یہ اعلان ہوا یہ دعا خدا تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جس وقت سکھائی تو اس وقت یا جو باتیں حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اللہ تعالی نے