انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 454
تغییر حضرت خلیفہ امسح الثالث ۴۵۴ سورة ال عمران بتا ئیں اس وقت تو نوع انسانی میں سے ایک چھوٹے سے حصہ کا تعلق تھا خانہ کعبہ سے۔اکثریت تو ایسی تھی یا انکو علم ہی نہیں تھا، علم تھا تو ان کو کوئی تعلق ہی نہیں تھا، کوئی پیار ہی نہیں تھا، خانہ کعبہ کے ساتھ تو ان کا کوئی مقصد ہی وابستہ نہیں تھا نہ دنیوی اور نہ دینی۔پھر وہ عظیم رسول دنیا کی طرف آیا جس نے یہ اعلان کیا قُلْ يَايُّهَا النَّاسُ إِلى رَسُولُ اللهِ إِلَيْكُم جمِيعًا (الاعراف : ۱۵۹) دنیا کے ہر خطے میں بسنے والے مردو! اور عورتو! اللہ تعالیٰ نے تم سب کی طرف مجھے رسول بنا کر بھیج دیا۔اور آج کے بعد تمہاری ہر قسم کی فلاح اور بہبود مجھ سے وابستہ ہو گئی اور اس تعلیم کے ساتھ جو میں لے کے تمہاری طرف آیا ہوں یہ پہلا ہے جو اِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ۔الناس کے لئے۔۔۔۔۔۔عربی زبان میں النّاس یارانس یا انسان یہ سارے لفظ مردوزن ہر دو کے لئے بولے جاتے ہیں یعنی عورت کے لئے بھی اور مرد کے لئے بھی اور اگر سیاق و سباق مضمون کا محض مرد کو منتخب نہ کرتا ہو یا محض عورت کے لئے اس مضمون کو بیان کرنا ظاہر نہ کرتا ہو تو ہر دو مراد ہوں گے۔تو یہاں یہ اعلان کیا گیا کہ دنیا کی ہر عورت اور ہر مردسن لے کہ میں ساری دنیا کی طرف رسول بن کے آ گیا۔پھر آپ نے کہا کہ رسول کے معنے پیغام لایا ہوں ایک، اس کی بنیاد کیا ہے، کیا وہ پیغام ہے، اس کی حقیقت کیا ہے تمہیں جو میں کہتا ہوں کہ لوگوسنو کہ میں تمہاری طرف آیا ہوں، تمہارا فائدہ کیا ہے؟ آپ نے کہا رحمت اللعالمین بن کے آیا ہوں۔تم میں سے ہر مرد اور ہر عورت کے لئے میں رحمت بن کر آیا ہوں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان مقاصد کا آخری مقصد جو میں نے منتخب کیا تھا وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا تھی۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے متعلق ابھی آؤں گا اس طرف لیکن بتا میں یہ رہا ہوں کہ پہلا مقصد بتاتا ہے کہ ان لوگوں نے جن کو کہا گیا تھا کہ یہ سارے انسانوں کے لئے ان کی فلاح و بہبود کے لئے ان کی بھلائی کے لئے ان کی خیر کے لئے پہلا گھر جو بنایا گیا، حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ہاتھوں از سرنو اس کی تعمیر ہورہی ہے وہ خانہ کعبہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔وُضِعَ لِلنَّاس سے جو استدلال کئے جاسکتے ہیں وہ یہ ہیں کہ تمام اقوام عالم بلا امتیاز رنگ ونسل، بلا دیگر امتیازات کے جو انسان انسان کو ایک دوسرے سے علیحدہ اور ممتاز کر دیتے ہیں اور ان میں تفرقہ