انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 452
۴۵۲ سورة ال عمران تغییر حضرت خلیفة المسح الثالث رنگ رکھتی ہے۔اس کے پیچھے ایک روح ہے جو شخص روح کا خیال نہ رکھے اور صرف جسم پر فریفتہ ہووہ ایک مردہ کی پرستش کر نیوالا ہے۔اس کو ان عبادات کا جن کی روح کا خیال نہیں رکھا گیا۔کوئی ثواب نہیں ملے گا۔بلکہ اس کے ساتھ اس کے رب کا وہی سلوک ہوگا جو ایک مردہ پرست کے ساتھ ہونا چاہیے۔خطبات ناصر جلد اوّل صفحہ ۶۷۸ تا ۶۸۸) قرآن عظیم نے بتایا ہے کہ اِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِس کی رو سے وہ گھر جو شریعت کے قیام کے لئے پہلے پہل انسان کو ملا تھا، وہ مکہ میں ہے اور اس وجہ سے مکہ کو قرآن کریم کی ہدایت کے مطابق اُم القریٰ کہتے ہیں۔جس طرح ماں سے اس کے بچے وابستہ ہوتے ہیں اسی طرح وہ شہر جس سے بہت سے دوسرے شہر وابستہ ہوتے ہیں اُقد القرنی (یعنی بستیوں کی ماں ) کہلاتا ہے اور یہ حیثیت مکہ مکرمہ کو حاصل ہے۔قرآن کریم کی دو بنیادی صفات ہیں۔ایک یہ کہ قرآن عظیم پہلی صداقتوں کا جامع ہے اور دوسرے یہ کہ ان صداقتوں کو بھی اپنے اندر لئے ہوئے ہے جن تک پہلوں کی پہنچ نہیں تھی۔چونکہ مکہ مکرمہ کا تعلق إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَةَ مُبْرَكًا وَهُدًى لِّلْعَلَمِينَ (ال عمران : ۹۷) کی رو سے تمام پہلی شریعتوں سے ہے اور قرآن کریم کے متعلق آیا ہے کہ پہلے انبیاء پہلی کتب اور پہلی قوموں کو حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق جو بشارتیں دی گئی تھیں وہ ان کو پورا کرنے والا ہے ( آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ہر نبی کو بتایا گیا تھا اور آپ کی بشارت دی گئی تھی ) اس لئے گویا قرآن عظیم ان بشارتوں کا مصدق ہو کر بھیجا گیا ہے۔جہاں تک پہلی بشارتوں کی تصدیق کا تعلق ہے قرآن کریم جس امت پر نازل ہوا اور جس کی بدولت عظیم ذمہ داریاں ان پر ڈالی گئیں مکہ مکرمہ اس لحاظ سے ان کے لئے اُم القریٰ بنا اور حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چونکہ نوع انسانی کی عام اور وسیع اور کامل ہدایت کے لئے مدینہ کو اپنا مرکز بنایا تھا۔اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل مدینہ نوع انسان کے لئے اُم القریٰ بن گیا۔چنانچہ موطا امام مالک کی ایک حدیث بھی اس طرف اشارہ کرتی ہے جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد ہے کہ پہلے مکہ کو حرم بنایا گیا تھا اور اب میرے ذریعہ مدینہ کو حرم بنایا گیا ہے۔پس مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ ہم مسلمانوں کے لئے ام القریٰ کی حیثیت رکھتے ہیں یعنی یہ وہ مراکز ہیں جن سے دنیا کے سارے شہروں کا تعلق ہے اور جہاں سے دنیا کی رہنمائی کی مہم شروع ہوئی۔