انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 423
تفسیر حضرت خلیفہ المسیح الثالث ۴۲۳ سورة ال عمران جمع ہو جائے۔چونکہ یہاں بارش کے موضوع پر اللہ تعالیٰ بات نہیں کر رہا۔بلکہ انسان کی دینی اور دنیوی ترقیات اور بہبود کے متعلق بات ہو رہی ہے اس لئے یہاں مُبرما کے معنی دو ہیں۔ایک یہ کہ تمام اقوام عالم کے نمائندے اس گھر میں جمع ہوتے رہیں گے اور دوسرے یہ کہ ہم نے بیت اللہ کو اس لئے تعمیر کروایا اور اسے معمور رکھنے (آباد ر کھنے) کا فیصلہ کیا ہے کہ یہاں ایک ایسی شریعت قائم کی جائے گی یہاں ایک ایسا آخری شریعت والا نبی مبعوث کیا جائے گا کہ جس کی شریعت میں تمام ہدایتیں اور صداقتیں (روحانی) جو مختلف اقوام کی شریعتوں میں متفرق طور پر پائی جاتی تھیں پھر اکٹھی کر دی جائیں گی اور کوئی ایسی صداقت نہ ہو گی جو اس شریعت سے باہر رہ گئی ہو۔پس فرمایا کہ روحانی لحاظ سے ہم اس بیت اللہ کو م برگا بنانا چاہتے ہیں اور ہماری یہ غرض ہے کہ یہ مولد ہوگا ایک ایسی شریعت کا کہ تمام انبیاء کی شریعتوں میں جو ہدایتیں متفرق طور پر پائی جاتی ہوں گی وہ اس میں اکٹھی کر دی جائیں گی اور اس کے ساتھ برکت بھی ہوگی یعنی وہ تمام چیزیں جو پہلوں کے لئے ضروری نہیں تھیں اور وہ انہیں برداشت نہیں کر سکتے تھے وہ صداقتیں بھی اس میں بیان ہوں گی اور ایک کامل اور مکمل شریعت ہوگی جو تمام قوم کے فائدہ کے لئے قائم کی جائے گی اور یہ جو گھر ہے اور یہ جو بیت اللہ ہے یہ اس کامل اور مکمل اور ابدی شریعت کے لئے اُم القری ٹھہرے گا۔تیسری غرض بیت اللہ کے قیام کی ھدی للعلمین میں بیان کی گئی ہے۔آپ اس بات کو مدنظر رکھیں کہ ان آیات کے شروع میں بیان کیا گیا تھا۔وُضِعَ لِلنّاس کہ تمام دنیا، تمام اقوام اور تمام زبانوں کے لئے ہم اس گھر کو بنا رہے ہیں تمام اقوام کے ساتھ اس کا جو تعلق ہے اس کو اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں بار بار دہرایا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تیسری غرض اس گھر کی تعمیر سے یہ ہے کہ هُدى العلمين تمام جہانوں کے لئے ہدایت کا موجب یہ بنے۔لفظ ھڈی کے معنوں میں بھی عالمین کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے کیونکہ عقل اور فراست اور علم اور معارف جو مشترک طور پر سارے انسانوں کا حصہ ہیں ان کو ہدایت کہتے ہیں۔اس کے بغیر آگے روحانی علوم چل ہی نہیں سکتے کیونکہ جس میں مثلاً عقل نہ ہو وہ پاگل ہو جائے اس کو مرفوع القلم کہتے ہیں یعنی اب اس کے اوپر شریعت کا حکم نہیں رہا غرض عقل بنیاد ہے شریعت کی اور ان معانی کی جو اس لفظ ہدایت کے اندر پائے جاتے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ نے یہاں یہ فرمایا کہ ہم اس گھر کے ذریعہ سے ثابت کریں گے کہ تمام اقوام