انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 422
تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۴۲۲ سورة ال عمران کے ذریعہ سے اور وقف کے ذریعہ سے ایک ایسی قوم تیار ہوئی جو اگر خدا تعالیٰ کی بن جائے تو اس کے اندر تمام وہ استعداد میں پائی جانی تھیں جو روحانی میدانوں میں بنی نوع انسان کی راہ نمائی اور قیادت کر سکے اور چونکہ یہ استعداد میں اور قو تیں اپنے کمال کو پہنچ چکی تھیں ان کے غلط استعمال سے فتنہ عظیمہ بھی پیدا ہو سکتا تھا۔اس لئے جب تک وہ گمراہ رہے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شدت سے مخالفت کی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اتنی ایذا پہنچائی کہ پہلی کسی امت نے اپنے نبی کو اس قسم کی ایز انہیں پہنچائی غرض ان کے اندر استعداد میں بڑی تھیں ایک وقت تک وہ چھپی رہیں۔ایک وقت تک شیطان کا ان پر قبضہ رہا لیکن جب وہ سوئی ہوئی استعدادیں بیدار ہوئیں اور انہوں نے اپنے ربّ کو پہچانا تو دنیا نے وہ نظارہ دیکھا کہ اس سے قبل کبھی بھی انسان نے خدا تعالیٰ کی راہ میں اس قسم کی قربانیوں کا نظارہ نہیں دیکھا تھا۔غرض یہ وہ قوم تھی جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانیوں اور ان کی دعاؤں اور ان کی نسل کی قربانیوں اور ان کی دعا کے نتیجہ میں پیدا ہوئی۔غرض وُضِعَ لِلنَّاسِ کا مفہوم حقیقی معنی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔جیسا کہ تمام اغراض و مقاصد جو بیت اللہ سے متعلق ہیں وہ حقیقی طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تعلق رکھنے والے ہیں لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خدا تعالیٰ نے یہ بتایا تھا کہ میں اس گھر کی جو میرا گھر ہے از سر نو تعمیر ان اغراض کے پیش نظر کروا رہا ہوں اور اس کے لئے تمہیں قربانیاں دینی پڑیں گی۔غرض پہلا مقصد جس کا تعلق بیت اللہ سے ہے یہ ہے کہ یہ بیت اللہ وہ سب سے پہلا خدا کا گھر ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے تمام بنی نوع انسان کے دینی اور دنیوی فوائد رکھے ہوئے ہیں۔وضع للناس یعنی تمام لوگوں کی بھلائی کیلئے اس کی تعمیر کی گئی ہے۔یہاں سے دنیا کی اقوام بلا امتیاز رنگ، بلا امتیاز نسل اور قطع نظر ان امتیازات کے جو ایک کو دوسرے سے علیحدہ کر دیتے ہیں تمام اقوام عالم اس گھر سے دنیوی فوائد بھی حاصل کریں گی اور دینی فوائد بھی حاصل کریں گی۔یہ پہلی غرض ہے اس گھر کی از سر نو تعمیر ہے۔دوسری غرض بیت اللہ کی تعمیر سے یہ ہے کہ ہم ایک اپنے گھر کو ( بیت اللہ کو ) مبر کا بنانا چاہتے ہیں اور مبر گا اس مقام کو کہتے ہیں جو نشیب میں ہو اور اگر بارش ہو تو چاروں طرف کا پانی وہاں آ کر