انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 405 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 405

تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۴۰۵ سورة ال عمران جو خدا تعالیٰ پر ایمان لاتا اور قرآن کریم کو ہمیشہ کے لئے ہدایت اور شریعت سمجھتا ہے اس کا یہ فرض ہے کہ وہ اس حکم کے ماتحت اہلِ کتاب کو اسلام کی طرف اس رنگ میں دعوت دے جس رنگ میں کہ یہاں مضمون بیان ہوا ہے۔دوسری بات جس کی طرف توجہ دلائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ ( حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس چھوٹے سے اقتباس میں جو اشارے ہیں میں انہی کی وضاحت کروں گا ) قرآن کریم نے توحید باری تعالیٰ کے بارہ میں زبردست دلائل بیان کئے ہیں اور بتایا ہے کہ تمام مذاہب تو حید کے قیام کے لئے آئے تھے اور تعالوا إلى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ - يحض ایک دعوت نہیں کیونکہ عیسائیت میں مثلاً بعض ایسے لوگ ہیں کہ جو تثلیث کے قائل ہیں اور ان پر تو بظاہر تَعَالَوْا إِلى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَ بینکم کا اطلاق نہیں ہوتا اور اہلِ کتاب میں سے مثلاً یہودیوں میں سے بعض وہ لوگ ہیں جنہوں نے ارباباً مِنْ دُونِ اللهِ بنائے ہوئے تھے۔انہوں نے اپنے بزرگوں کو قریباً خدا کا درجہ دے دیا تھا۔ایسے لوگوں کے ساتھ بات کرتے ہوئے بھی تعالوا إلى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَ بَيْنَكُمْ کا یہ نعوذ بالله مطلب نہیں لیا جا سکتا کہ مسلمان بھی آربابا مِنْ دُونِ اللہ کے قائل ہیں۔مطلب یہ ہے کہ قرآن کریم نے اس بات کے ثبوت میں اس قدر ز بر دست عقلی اور نقلی ثبوت دیئے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے سوا اہل کتاب میں سے کوئی فرقہ اگر کسی کو مقام خدائی دے یا خدا بنادے یا خدا کا بیٹا بنا دے تو قرآن کریم اس بات کی ذمہ داری لیتا ہے اور قرآن کریم کی شریعت نے اس ذمہ داری کو احسن طور پر نباہا ہے اور ثابت کیا ہے کہ اربابا من دُونِ اللہ کہنے والے لوگ غلطی پر ہیں اسی طرح ایک ایسے عیسائی مخاطب کو جو تثلیث کا قائل ہے اُس پر یہ ثابت کیا ہے کہ تثلیث کا عقیدہ غلط ہے خدا واحد و یگانہ ہے اور یہ عقائد اختلافی جن کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس اقتباس میں ذکر کیا ہے یہ وہ زوائد یا غلط باتیں ہیں جو لوگوں نے اپنے مذہب میں شامل کر لیں لیکن اسلام نے کہا کہ میں دُنیا پر یہ بات ثابت کروں گا کہ یہود و نصاری اور ایسے ہی دوسرے مذاہب جن پر کتابیں اتری تھیں لیکن انہوں نے ان میں ملاوٹ کر دی اُن میں تحریف کردی یا اُن میں تبدیلی کر کے ان کی شکل کو بگاڑ دیا۔نتیجہ یہ ہوا کہ وہ توحید کی راہ سے بھٹک گئے۔کوئی زیادہ بھٹکا اور کوئی کم بھٹکا لیکن جو بھٹک گیا وہ تو بھٹک گیا قران کریم نے اس آیت میں یہ ذمہ داری لی ہے کہ وہ یہ ثابت کرے گا کہ توحید سوآء بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ ہے ہر نبی توحید کے