انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 406
تغییر حضرت خلیفة المسح الثالثة ۴۰۶ سورة ال عمران قیام ہی کے لئے آیا تھا اور یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس میں باوجود ظاہری اختلاف کے ہمارا اور تمہارا کوئی اختلاف نہیں۔قرآن کریم کہتا ہے کہ وہ دلائل ساطعہ اور بنج قاطعہ کے ساتھ یہ ثابت کرے گا کہ اے اہل کتاب ! تم غلط راہ پر ہو۔اس جگہ اور چیزیں تو بعد کی باتیں ہیں لیکن تبلیغ یہاں سے شروع کی کہ اس بات پر ہمیں اور تمہیں اکٹھا ہونا پڑے گا اور ہم تمہیں ثبوت دیں گے۔چنانچہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم دُنیا کے ہاتھ میں پکڑا کر اور زبردست دلائل دے کر یہ ثابت کر دیا کہ نہ اربابا مِّنْ دُونِ اللہ کا عقیدہ صحیح ہے اور نہ تثلیث یعنی ایک اور دو اور تین خدا (ایک تین اور تین ایک ) ہیں۔یہ سب نامعقول باتیں ہیں اور انسانی فطرت اور اس کی ضمیر کے خلاف عقیدے ہیں۔لفظی طور پر ساری کتب سماویہ کے کچھ حصے محفوظ ہوتے ہیں ہر چیز تو نہیں بدل جاتی اُن مذاہب کی جن کو ہم اہل کتاب کہتے ہیں (ویسے بعض ایسے مذاہب بھی ہیں جن کو بد مذہب کہا جاتا ہے اُن کو ان کی فطرت کی طرف ہم توجہ دلائیں گے )۔اور ہر مسلمان کا یہ فرض ہے کہ وہ یہ دیکھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم جیسی عظیم کتاب ہمارے ہاتھ میں دے کر اور اس کی بہترین تفسیر کر کے دُنیا پر یہ ثابت کر دیا کہ واقع میں یہ کلمہ ہمارے اور تمہارے درمیان مشترک ہے کہ الا تعبد إِلَّا اللہ ہم سوائے خدائے واحد کے کسی کی عبادت نہ کریں۔ہم صرف خدائے واحد و یگانہ کی عبادت کرنے والے ہوں۔یہ ہے بنیادی طور پر مشترک عقیدہ جس کے بغیر مذہب لاشی محض ہے، اس کی کوئی حقیقت نہیں اگر خدا ہی نہیں تو پھر مذہب کوئی چیز نہیں انسان کی اپنی عقل کے ڈھکوسلے ہیں اور بس۔اور اگر خدا ہے اور یقیناً ہے تو وہ ایک ہی ہے باقی سارے عقائد وساوس اور توہمات ہیں اور سب غلط اور بے ہودہ ہیں اور قرآن کریم نے ان کی غلطی کو ثابت کیا ہے۔اس لئے جیسا کہ میں نے بتایا ہے قُل کو ہم منسوخ نہیں سمجھ سکتے ہم احمدی یہ کہتے ہیں کہ قرآن کریم کا کوئی لفظ منسوخ نہیں۔چودہ سو سال گزر گئے اور آج بھی قرآن کریم ہر ایک کے کان میں کہتا ہے قُلْ يَاهُل الكتب تعالوا إلى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ - پس جب ہم اس نقطۂ نگاہ سے امت محمدیہ کی تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں تو پہلے دن ہی سے مقربین الہی کا ایک گروہ ہمیں نظر آتا ہے جن کو قرآن کریم کا علم اور اس کے اسرار روحانی اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہوئے اور اُنہوں نے کسی مذہب کے مقابلے میں کبھی یہ وہم پیدا نہیں ہونے دیا کہ قرآن کریم خود بنیادی طور پر اور دوسرے مذہب کے مقابلہ میں بھی تو حید خالص کو ثابت نہیں کرتا لیکن اس آیت میں