انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 404
تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۴۰۴ سورة ال عمران دُونِ اللَّهِ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُولُوا اشْهَدُوا بِأَنَا مُسْلِمُونَ ) اس آیہ کریمہ کی تفسیر میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :- ۶۵ قرآنی تعلیم کا دوسرا کمال کمال تفہیم ہے یعنی اُس نے اُن تمام راہوں کو سمجھانے کے لئے اختیار کیا ہے جو تصور میں آسکتے ہیں۔اگر ایک عامی ہے تو اپنی موٹی سمجھ کے موافق اس سے فائدہ اُٹھاتا ہے اور اگر ایک فلسفی ہے تو اپنے دقیق خیال کے مطابق اس سے صداقتیں حاصل کرتا ہے اور اس نے تمام اصول ایمانیہ کو دلائل عقلیہ سے ثابت کر کے دکھلایا ہے اور آیت تعالوا إلى كَلِمَةِ میں اہل کتاب پر یہ حجت پوری کرتا ہے کہ اسلام وہ کامل مذہب ہے کہ زوائد اختلافی جو تمہارے ہاتھ میں ہیں یا تمام دُنیا کے ہاتھ میں ہیں، ان زوائد کو نکال کر باقی اسلام ہی رہ جاتا ہے۔(جنگ مقدس ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۲۸۹) اس آیت کریمہ میں بہت سی باتوں کی طرف ہمیں توجہ دلائی گئی ہے ایک یہ کہ قرآن کریم قیامت تک کے لئے ہدایت نامہ ہے اور ہم لوگ جو جماعت احمدیہ سے تعلق رکھتے ہیں ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ قرآن کریم کی کوئی ایک آیت بھی یا کوئی ایک لفظ بھی یا کوئی ایک حرف بھی یا کوئی ایک زیر اور زبر بھی منسوخ نہیں ہو سکتی۔جماعت احمدیہ کا یہ مذہب اور عقیدہ ہے کہ جس رنگ میں قرآن کریم حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا اُسی شکل میں بغیر کسی رد و بدل کے یہ ہم تک پہنچا ہے اور اپنی اسی اصلی اور حقیقی شکل میں قیامت تک قائم رہے گا۔سوال پیدا ہوتا ہے کہ لفظ قل کا مخاطب کون ہے؟ سو یا د رکھنا چاہیے کہ اس کے پہلے مخاطب تو خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں لیکن چونکہ یہ قیامت تک کے لئے ایک ہدایت ہے اس واسطے یہ حکم صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی سے تعلق نہیں رکھتا کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو آپ کے وصال کے بعد اس آیت کو یا اس حکم کو جو قل میں آیا ہے لوگ اسے منسوخ سمجھتے۔دراصل اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر متبع کو کہا گیا ہے کہ وہ بیان شدہ مضمون کے مطابق اہل کتاب کو دعوت دے۔پس جیسا کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ فرض تھا کہ آپ اس آیت کی روشنی میں اہلِ کتاب کو دعوت دیتے اور جیسے آپ اپنی زندگی میں احسن طور پر بجالائے اسی طرح ہر بچے مسلمان کا