انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 366 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 366

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۳۶۶ سورة البقرة قرآن کریم یا اسلامی شریعت میں اس قدر زبردست دلائل ہیں اور اسلام کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نشانات کا اتنا وسیع سمندر عطا کیا گیا ہے کہ ان دلائل اور ان آسمانی نشانات کے بعد اسلام کو اپنی اشاعت کے لئے کسی مادی طاقت اور قوت کی ضرورت باقی نہیں رہتی ہاں جو لوگ دلائل سے غافل اور آسمانی نشانات کے حصول کی اہلیت نہیں رکھتے وہ دھوکا کھاتے ہیں۔قرآن کریم نے دلیل کے ساتھ (چند باتیں میں نے بیان کی ہیں ورنہ قرآن کریم کے سارے دلائل تو میں اس وقت بیان نہیں کر سکتا ) انسان کے سامنے یہ بات بڑی وضاحت اور زور سے رکھی کہ اسلام کو ، قرآن کریم کو، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا دین پھیلانے کے لئے کسی چیز کی ضرورت نہیں ہے فرما یا لا اکراہ فی الدین۔دین کے بارہ میں جبر جائز نہیں لیکن انسان بھی کیا عجیب ہے اس عظیم اعلان کے باوجود اور اس عظیم اعلان کے حق میں زبردست دلائل کے ہوتے ہوئے جبر کرنے کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔ہم ایک کہاوت سنا کرتے تھے کہ کسی آدمی کو موقع مل گیا اُس نے ایک غیر مسلم کو قابو کیا اور چھرا نکال کر کہنے لگا پڑھ کلمہ۔وہ حیران کہ یہ کیا بات ہوئی کہ چھرے کے زور پر مجھے کہتا ہے پڑھ کلمہ۔خیر اُس نے کوئی دلیل اپنی چاہی اور کہا مجھے سمجھاؤ تو سہی مگر اُس نے کہا یا تو کلمہ پڑھو یا میں چھرے سے تمہاری گردن کا تھا ہوں۔چنانچہ جب اُس نے یہ دیکھا کہ یہ شخص سنجیدگی کے ساتھ چھری کی دھار پر مجھے اسلام قبول کرنے پر آمادہ کرنا چاہتا ہے تو چونکہ اُس نے جان بچانی تھی اس لئے کہنے لگا اچھا تو پھر پڑھاؤ کلمہ تو وہ آگے سے کہنے لگا اوہو! کلمہ تو مجھے بھی نہیں آتا۔تو بڑا خوش قسمت ہے تیری جان بچ گئی ورنہ یا تو کلمہ پڑھتا یا میں تجھے مار دیتا۔پس جبر کے زور سے اسلام منوانے والے، اسلام کی حقانیت کے روشن نشانات سے خود بے نیاز ہو جاتے ہیں۔یہ ایک بڑا پرانا اور مشہور قصہ ہے لیکن اس میں یہی بتایا گیا ہے کہ جس شخص کو اسلام کے حسن واحسان کا علم نہیں وہ چھرے یا تلوار یا طاقت یا ایٹم بم سے دل کے عقائد بدلنے کی کوشش کرے گا۔حالانکہ دین کے بارہ میں جبر سے کام لینے کی ہرگز اجازت نہیں ہے۔لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّینِ کے کئی تفسیری معنے لئے جاسکتے ہیں۔دین کے معنے اگر دل سے اطاعت کے لئے جاویں اور یہ لغت عربی کی رو سے صحیح ہیں۔تو یہ واضح ہے کہ اطاعت میں جبر ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ اطاعت کا تعلق اخلاص سے ہے