انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 365 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 365

تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۳۶۵ سورة البقرة میں اس حسین تر دین میں بنی نوع انسان پر عظیم احسان کرنے کی طاقت رکھنے والے دین نے دین کے معاملہ میں جبر کو جائز قرار نہیں دیا۔نہ مذہب کے معاملہ میں جائز قرار دیا نہ کسی مسلمان کے ذہن میں یہ بات پیدا ہونے دی کہ اطاعت حقیقی جبر سے بھی کروائی جاسکتی ہے یعنی ہماری عقلوں کو بھی یہ باور کروایا کھول کے بیان کیا ایک لحظہ کے لئے بھی کوئی عظمند سوچ نہیں سکتا کہ جبرا حقیقی اطاعت کروائی جاسکتی ہے۔جبراً ظاہری اطاعت کا تو امکان ہے لیکن جبرا حقیقی اطاعت جب دل میں بشاشت پیدا ہو جب سینوں میں شرح پیدا ہو فراخی اور وسعت پیدا ہو جب روح میں نور پیدا ہو جب انسان کے وجود میں خدا تعالیٰ کا پیار سمندر کی لہروں کی طرح موجزن ہو جائے۔یہ جبر سے ہوسکتا ہے؟ تو ہمیں جب کہا خدا نے کہ جب یہ ناممکن ہے کہ جبر اور اکراہ اور زور کے ساتھ اور طاقت کے ذریعہ سے کسی کے دل میں تبدیلی پیدا کی جائے تو ہر وہ ازم یا ہر وہ مذہب جو اس کے برعکس خیال کرتا ہے وہ خدا کی مرضی کے خلاف باتیں کر رہا ہے۔اسلام نے اس کی اجازت نہیں دی۔قف (خطبات ناصر جلد ہشتم صفحه ۱۱۵ تا ۱۲۷) ایک وقت میں ایسے لوگ خود اسلام کے اندر پیدا ہو گئے جو اس غلط فہمی کا شکار ہو گئے کہ اسلام کو اپنی اشاعت کے لئے تلوار کی طاقت اور زور کی ضرورت ہے اور اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ نہ تو اسلامی دلائل کا علم رکھتے تھے اور نہ وہ کوئی ایسا روحانی مرتبہ رکھتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیوض سے حصہ لے کر دنیا کو نشانات دکھانے کے قابل ہوتے۔غرض جہالت اور عدم قابلیت کے نتیجہ میں یہ خیال پیدا ہو گیا کہ اسلام صرف تلوار کے زور سے پھیل سکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ قَد تَبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَى یعنی جو ہدایت ہے اور جو ضلالت ہے اس کے درمیان ایک بین اور نمایاں فرق کر کے بتادیا گیا ہے اس مفہوم کو سورۃ بقرہ ہی میں ایک دوسری جگہ اس طرح بیان کیا گیا ہے۔هُدًى لِلنَّاسِ وَبَيِّنَةٍ مِنَ الْهُدَى وَالْفُرْقَانِ (البقرة: ۱۸۶) که جو علوم دین ایسے تھے جن سے دُنیا واقف نہیں تھی قرآن کریم ان علوم کو لانے والا ہے چونکہ یہ ھدی للناس ہے اور بَيِّنَتِ مِنَ الهُدی جن دینی ہدایات میں اجمال پایا جاتا تھا اور کچھ پہلو ضرورت زمانہ کی وجہ سے پہلے نمایاں نہیں کئے گئے تھے قرآن کریم نے اس اجمال کی تفصیل بتائی اور اُن مشتبہ چیزوں کی وضاحت کر دی اور پھر فرمایا یہ الفرقان ہے قرآن کریم حق اور باطل میں ایک امتیاز پیدا کرتا ہے کیونکہ