انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 367 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 367

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۳۶۷ سورة البقرة اور اخلاص کا تعلق دل سے ہے اور دل کا کوئی تعلق طاقت کے ساتھ نہیں یعنی زبان سے تو ز بر دستی کہلوایا جا سکتا ہے اگر کوئی بز دل قابو آ جائے لیکن دلی اخلاص کے ساتھ زبر دستی اطاعت نہیں کروائی جاسکتی۔اس کے لئے اخلاقی اور روحانی طاقتیں ہیں جن کی ضرورت پڑا کرتی ہے۔(خطبات ناصر جلد ششم ۳۵۸ تا ۳۶۱) آیت ۲۶۵ يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُبْطِلُوا صَدَقَتِكُم بِالْمَنِّ وَالْاَذْى كَالَّذِي يُنْفِقُ مَالَهُ رِئَاءَ النَّاسِ وَلَا يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَمَثَلُهُ كَمَثَلِ صَفْوَانِ عَلَيْهِ تُرَابُ فَاَصَابَهُ وَابِل فَتَرَكَهُ صَلَدًا لَا يَقْدِرُونَ عَلَى شَيْءٍ مِّمَّا كَسَبُوا وَاللهُ لَا يَهْدِى الْقَوْمَ الْكَفِرِينَ ) (۲۶۵) اسی واسطے جب انسان بظاہر نیکی کر رہا ہو اور بظاہر تقویٰ کا مظاہرہ کر رہا ہو اس وقت بھی اگر حقیقی تقویٰ نہیں ہے تو وہ نیکی نہیں رہتی مثلاً صدقہ ہے، صدقات دینا نیکی کا کام ہے (صدقہ کے مختلف معانی ہیں میں اس وقت ان معانی میں نہیں جاؤں گا) بظاہر یہ نیک کام ہے لیکن اگر اس کے ساتھ تقویٰ نہیں، اگر صدقات بجالانے والا متقی نہیں، اگر وہ تقویٰ کی راہوں کو اختیار نہیں کرتا اور تقویٰ کی شرائط کو پورا نہیں کرتا تو صدقات نیکی نہیں رہتے۔لا تُبْطِلُوا صَدَ قُتِكُم بِالمَن والاذی اگر صدقات بھی ہیں اور من اور اڈی بھی ہے تو پھر وہ نیکی نہیں رہیں گے اس لئے تقوی ضروری ہے۔( خطبات ناصر جلد ہفتم صفحہ ۸۸) آیت ۲۷۳ لَيْسَ عَلَيْكَ هُدُ بهُمْ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ ۖ وَمَا b * تُنْفِقُوا مِنْ خَيْرٍ فَلِاَنْفُسِكُمْ وَمَا تُنْفِقُونَ إِلَّا ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللهِ ۖ وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ خَيْرٍ يُوَفَّ إِلَيْكُمْ وَأَنْتُمْ لَا تُظْلَمُونَ ) اے رسول ! لوگوں کو ہدایت کی راہ پر لانا تیرے ذمہ نہیں ہے یہ تو اللہ تعالیٰ کا کام ہے وہ جسے چاہتا ہے ہدایت کی راہ پر لے آتا ہے۔قرآن کریم کی یہ بھی ایک عجیب شان ہے۔ہم اپنے ایک خاص مضمون