انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 360
۳۶۰ سورة البقرة تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ہوتی تو اسلام کے اندر نہ فاسق کوئی ہوتا نہ منافق کوئی ہوتا۔اپنی مرضی سے اخلاص کے ساتھ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل اطاعت جو کامل محبت کا تقاضا کرتی ہے جس کے نتیجے میں خدا تعالیٰ کا پیار ملتا ہے اس کی معرفت ملتی جس کے نتیجہ میں خدا کا عرفان حاصل ہوتا خدا کے لئے دل میں محبت کا ایک سمندر موجزن ہو جاتا ہے۔اس کے بعد خدا تعالیٰ اس قابل سمجھتا ہے اس پاک بندے کو جو اس پاک کی خاطر خود کو پاک بناتا ہے کہ اس سے وہ پیار کرے اپنی رضا کی جنتوں میں اسے داخل کرے تو لا إكراه في الدِّينِ - پہلوں نے بھی باوجود اس کے کہ بہت سی غلط قسم کی روایتیں بھی ان کے پاس پہنچ چکی تھیں لیکن جو حقیقت تھی وہ بھی انہوں نے کھول کے بیان کر دی۔ان میں سے چند حوالے اس وقت میں پڑھ کے سناؤں گا آپ دوستوں کو۔ہمارے ایک مشہور بزرگ مفسر قرآن ہیں امام رازی۔یہ ساتویں صدی ہجری کے ہیں۔ان کی وفات ہوئی یعنی چھٹی کہنا چاہیے زیادہ زندگی انہوں نے گذاری چھٹی میں ، ۶۰۶ ہجری میں۔لا اکراه فی الدین کے نیچے وہ لکھتے ہیں بعض حوالے دے کر پہلوں کے کہ خدا تعالیٰ نے لا إِكْرَاةَ في الدِّینِ کی تفسیر کرتے ہوئے :- خدا تعالیٰ نے ایمان کی بنیاد جبر و اکراہ پر نہیں رکھی بلکہ ہر انسان کی طاقت اور اختیار پر رکھی ہے۔توحید کے متعلق فیصلہ کن اور واضح بیان دینے کے بعد فرمایا کہ ان دلائل کی توضیح کے بعد کافروں کے لئے کفر پر قائم رہنے کا کوئی عذر باقی نہیں رہا۔سوائے اس کے کہ اس کو ایمان پر مجبور کر دیا جائے ( یعنی جتنے دلائل دیئے جانے چاہیے تھے وہ دے دیئے گئے۔حق آگیا نا، جاء الحق اور معجزات بھی دکھائے گئے اور کوئی وجہ نہیں کہ یہ ایمان نہ لائیں۔اب جو وہ ایمان نہیں لاتے تو ایک ہی صورت رہ جاتی ہے باقی کہ ان کو مجبور کیا جائے کہ وہ ایمان لائیں لیکن وہ کہتے ہیں) اور کسی پر جبر واکراہ دنیا میں جو دار الابتلا اور دار الامتحان ہے جائز نہیں کیونکہ دین میں جبر و اکراہ کا مطلب یہ ہوگا کہ ابتلا اور امتحان کا مقصد باطل ہو گیا۔اسی فرمان کی طرح دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ( آیت کا میں ترجمہ کروں گا) کہ جو چاہے ایمان لائے جو چاہے کفر اختیار کرے اور ایک دوسری سورۃ میں فرمایا کہ اگر تمہارا رب جبر کرنا چاہتا تو زمین کے تمام لوگ ایمان لے آتے لیکن خدا نے ایسا نہیں کیا۔پھر کیا تو لوگوں کو مجبور کرے گا کہ وہ ایمان لے آئیں اور پھر ایک اور جگہ فرمایا کہ شاید کہ تو تباہ کر دے لَعَلَّكَ بَاخِعٌ