انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 359
۳۵۹ سورة البقرة تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث کریم کی ہر نئی تفسیر جو ہر نئے زمانہ کی ضروریات کو پورا کرنے والی ہے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کو ثابت کرنے والی اور آیت کی شان کو قائم رکھنے والی ہے اور خدا تعالیٰ کی فعلی شہادت اور آسمانی نشانات جس طرح محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں دنیا پر ظاہر ہوئے اسی طرح یہ سلسلہ قیامت تک ممتد ہے اور خدا تعالیٰ کے نیک بندے اُمت محمدیہ میں ایک ایک وقت میں بعض دفعہ لاکھوں کی تعداد میں مختلف خطوں میں پیدا ہوئے جنہوں نے خدا تعالیٰ سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل آپ کی قوت قدسیہ کے نتیجہ میں اور آپ کی صداقت اور شان کو ظاہر کرنے کے لئے معجزات دکھائے انسان کو۔اور یہ سلسلہ جو ہے وہ میں نے جیسا کہ بتایا قیامت تک ممتد ہے لیکن اس قدر دلائل سننے کے بعد اس قدر نشانات دیکھنے کے بعد بھی جس کا دل حق سے کراہت رکھتا اور جس کا سینہ بشاشت سے کفر کو قبول کرتا ہے اس پر جبر کر کے تو نہیں منوایا جاسکتا۔پھر جیسا کہ میں نے بتایا یہاں یہ بات بھی واضح کی گئی ہے کہ جو نیکی ہے اس کا بدلہ تو خدا تعالیٰ نے دینا ہے اگر میں یا آپ کسی پر جبر کر کے اس سے نیکی کے کام کروائیں تو وہ میرے سامنے ہاتھ پھیلائے گا نا کہ مجھے بدلہ دوستم نے جو مجھ سے یہ کام کروائے ہیں مجھے خدا کی رضا کی جنتوں کا پروانہ لکھ کے دو۔تو کون ایسا انسان ہے جو کسی دوسرے انسان کو ایسے پروانے لکھ کے دینا شروع کر دے اور خدا تعالیٰ ان کو مان بھی لے۔بدلہ تو خدا نے دینا ہے اور خدا ظاہری اعلان کو دیکھ کر تو بدلہ نہیں دیتا۔خدا تعالیٰ تو ، بعض بد بخت ایسے لوگ بھی ہیں کہ جن کے اعمال انسان کی نگاہ میں بڑے پیارے اور مخلصانہ ہوتے ہیں لیکن خدا تعالیٰ انہیں قبول نہیں کرتا بوجہ کسی ایسی خباثت کے جو ان اعمال کے پیچھے پوشیدہ ہوتی ہے اور ان کے منہ پر مار دیئے جاتے ہیں ان کے اعمال نامے۔حدیثوں میں کثرت سے اس کا ذکر ہے تو جس نے بدلہ دینا ہے اور جو علام الغیوب ہے اور جس پر کوئی زبردستی کر کے اس کے قانون اس کی خواہش اور منشاء کے خلاف کچھ کروا نہیں سکتا۔اس سے کیسے جزا دلوائی جاسکتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے تو مَنْ شَاءَ فَلْيُؤْ مِن وَ مَنْ شَاءَ فَلْيَكْفُرُ (الكهف : ۳۰) کا اعلان کیا۔خدا تعالیٰ نے تو یہ کہا کہ اپنی مرضی سے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاؤ اور مجھے سے اگر پیار حاصل کرنا چاہتے ہو تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل اطاعت کرو، اپنی مرضی سے لا إِكْرَاةَ في الدايين تم پر کوئی زبر دستی نہیں ہے۔مسلمان ہونے کے بعد بھی کوئی زبردستی نہیں کیونکہ اگر مسلمان ہونے کے بعد کوئی زبر دستی