انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 361
۳۶۱ سورة البقرة تفسیر حضرت خلیفہ امسح الثالثة نَّفْسَكَ (الشعراء: ۴) شاید کہ تو تباہ کر دے اپنی جان کو اس فکر سے کہ وہ ایمان نہیں لاتے۔اگر ہم انہیں مجبور کرنا چاہتے تو ہم ان پر آسمان سے کوئی ایسا نشان نازل فرما دیتے کہ اس کے سامنے ان کی گردنیں جھکنے پر مجبور ہو جاتیں اور اس معنی کی تائید اس فرمان سے بھی ہوتی ہے کہ ہدایت گمراہی سے الگ ہو چکی ہے (جو اسی آیت میں لا اکراہ فی الدین کے آگے ہے قَدْ تَبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ اس کی طرف اس کے معنی کر رہے ہیں ) اور اس معنی کی تائید اس فرمان سے بھی ہوتی ہے کہ اس کے بعد ہے (لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّینِ کے بعد ہے ) کہ ہدایت گمراہی سے الگ ہو چکی ہے یعنی اس کے دلائل ظاہر ہو چکے ہیں اور اس کے بعد ان کو ایمان کی طرف لانے کے لئے کوئی طریق باقی نہیں رہا۔( یعنی ہر وہ طریق جو کسی کو کنونس (Convince) کرنے کے لئے جو کسی کو سمجھانے کے لئے جو کسی پر ہدایت کھولنے کے لئے ممکن تھا وہ طریق اختیار کیا گیا وہ دلائل دے دیئے گئے معجزات دکھا دیئے گئے ) اور یہ جائز نہیں ، کوئی طریق باقی نہیں رہا سوائے جبر کے اور یہ جائز نہیں کیونکہ یہ ذمہ داری کے خلاف ہے کہ ہر آدمی پر جو ذمہ واری ہے کہ اپنی مرضی سے کرے یہ اس کے خلاف ہے جو بنیادی۔پہلے میں نے بتایا تھا کہ یہ جو انسان کی پیدائش کا منصوبہ باری ہے اس کے خلاف ہے)۔پھر یہ لکھتے ہیں کہ : " لا إِكْرَاهَ فِی الدِّینِ کا بعض کے نزدیک یہ مطلب بھی ہے جو شخص جنگ کے بعد دین میں داخل ہوا ہو اس کے متعلق یہ نہ کہو کہ وہ مجبور ہوکر دین میں داخل ہوا ہے۔اسلام جب آیا۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظاہری دنیوی کمزور حالت میں رہے لمبا عرصہ مکی زندگی میں، تیرہ سال پھر مدینے ہجرت کر کے تشریف لے گئے۔پھر وہاں حملہ آور ہوئے رؤسائے مکہ اور انہوں نے سارے عرب کو اپنے ساتھ ملایا اور یہ فیصلہ کیا کہ اسلام کو دنیا سے مٹادیں گے اس وقت تو وہی چند مسلمان تھے جومحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد جمع ہو چکے تھے، تو دفاعی جنگیں اسلام کو لڑنی پڑیں۔دفاعی جنگیں بھی لڑیں لیکن جنگ کی بعض شکلیں معجزانہ صورتیں بھی اختیار کر جاتی ہیں عقلمند آدمی کے لئے مثلاً بدر میں تین سو کچھ صحابہ کا نہتے ، نہ کپڑے ٹھیک نہ ہر ایک کے پاس جوتا بھی تھا اور اس کے مقابلے میں بڑے کتر وفر کے ساتھ رو و سائے مکہ حملہ آور ہوئے تھے لیکن ان کا سر وہاں کٹ گیا اور شکست کھائی اور وہ واپس آئے اس وقت بہتوں نے سمجھا ہو گا کہ اتنی کوشش جو کی ہے جب تک اس چھوٹی سی جماعت کے پیچھے کوئی زبر دست خدائی ہاتھ نہ ہو اس وقت تک یہ چیز نہیں ہے، یہ نظارہ