انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 357
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۳۵۷ سورة البقرة خدا یہ اعلان کرتا ہے کہ عَلَيْهِمْ غَضَبٌ مِّنَ اللهِ خدا کا غضب ایسے لوگوں کے اوپر نازل ہوتا ہے اور ان کے لئے اللہ تعالیٰ نے عذاب عظیم مقدر کیا یعنی جو شخص اپنی مرضی سے دنیا سے پیار کرنے والا کفر کی راہوں کو اختیار کرنے والا اور کفر پر شرح صدر رکھنے والا ہے یہ تصویر کھینچ دی نا اس آیت نے اب اگر کوئی شخص جبرا اس کے منہ سے یہ کہلوائے کہ میں ایمان لایا یا اگر کوئی جبرا اس شخص سے نماز پڑھوائے تو وہ تو اسے یہ کہے گا جبر کرنے والا کہ خدا تجھے جنت میں لے کر جائے گالیکن خدا کی وحی اور خدا کا کلام اسے یہ سنا رہا ہوگا فَعَلَيْهِم غَضَبٌ مِّنَ اللَّهِ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیم کہ یہ جو کہتے ہیں کرتے رہیں لیکن میرا فیصلہ یہ ہے کہ تیرے اوپر میر ا غضب نازل ہوگا اور تیرے لئے میں نے عذاب عظیم تیار کر رکھا ہے۔اس سے ہمیں پتا لگتا ہے کہ لا اکراہ فی الدین کے اور قَدْ تَبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَی کے معنی کیا ہیں اور ان کی حقیقت کیا ہے کہ جب دل میں ایمان نہیں تو جبر جو صرف ظاہر پر کیا جا سکتا ہے وہ بے نتیجہ ہے اور کسی کا یہ خیال کرنا کہ اس سے کوئی اچھا نتیجہ اسلام کے حق میں یا اس شخص کے لئے جس پر جبر کیا گیا ہے نکل آئے گا قرآن کریم کی تعلیم کے مطابق نہیں ہے۔ایک اور جگہ سورہ مومنون میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔آیت تو میں نے ایک لی ہے جو میں اب پڑھوں گا لیکن اس کے علاوہ کچھ آیتیں آئی ہیں ان کا میں ترجمہ صرف سناؤں گا آپ کو تا کہ مضمون آپ کے ذہن میں آجائے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اَم يَقُولُونَ بِهِ جِنَّةٌ بَلْ جَاءَهُمْ بِالْحَقِّ وَ أَكْثَرُهُمْ لِلْحَقِّ كَرِهُونَ (المؤمنون : ۷۱، ۷۲) کیا وہ کہتے ہیں کہ اس کو جنون ہے ( مگر ایسی بات نہیں) بلکہ وہ ان کے پاس حق لے کر آیا ہے اور ان میں سے اکثر لوگ حق کو نا پسند کرتے ہیں۔اگر حق ان کی خواہشات کی اتباع کرتا تو آسمان اور زمین اور جوان کے اندر بستے ہیں تباہ ہو جاتے۔حقیقت یہ ہے کہ ہم ان کے پاس ان کی عزت کا سامان لے کر آئے ہیں اور وہ اپنی عزت کے سامان سے اعراض کر رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مجرم یقیناً جہنم کے عذاب میں مدتوں مبتلا رہیں گے۔ان کے عذاب میں وقفہ نہیں ڈالا جائے گا اور وہ اس میں مایوس ہو جائیں گے اور ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا لیکن وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کر رہے تھے اور وہ پکاریں گے کہ اے مالک ( جو دوزخ کے داروغہ کا نام ہے ) تیرے رب کو چاہیے کہ ہمیں موت دے دے۔(آگے سے مالک ان کو جواب دے گا اور ) کہے گا تم دیر تک اس میں رہو گے۔لَقَدْ جِثْنَكُمْ بِالْحَقِّ وَلَكِنَّ أَكْثَرَكُمْ لِلْحَقِّ كَرِهُونَ (الزخرف :٩):