انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 356 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 356

۳۵۶ سورة البقرة تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث کرتا، ان کا دوست بن جاتا ہے، ان کو جیسا کہ اگلی آیت میں ہے اندھیروں سے نکال کر نور کی طرف لے آتا ہے۔ان راہوں کو منور کرتا ہے جو انہیں خدا تعالیٰ کے پیار کی طرف لے جانے والی ہیں۔جو اللہ تعالیٰ کے قرب کی راہیں ہیں وہ ان پر کھولی جاتی ہیں، ان پر چلنے کی انہیں تو فیق عطا کی جاتی ہے۔یہ چیزیں جبر سے نہیں ہوتیں اور نہ اس قسم کی کوئی جزا یا ثواب مل سکتا ہے جو جبر کروائے جائیں۔یہاں خدا تعالیٰ نے ایک دلیل بڑی واضح کر کے دے دی قَدْ تَبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَى ضلالت اور گمراہی کا فرق کھول کر بیان کر دیا۔ہر شخص جو اپنی فطرتی قوتوں کی صحیح نشو نما کرنے والا ہے اگر اسے صحیح غور و فکر کی توفیق ملے تو وہ اس نتیجہ پر پہنچے گا بغیر کسی جبر کے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا لایا ہوا دین اس کی بھلائی اور خیر کے لئے ہے لیکن جو شخص ہوائے نفس کے بندھنوں میں خود کو باندھ لے اور شیطان کا غلام ہو جائے تو ظاہری اور مادی سختیاں اور جبر و تشدد جو ہے وہ شیطان کی رسیاں ہیں جو انسان کے لئے تیار کی ہیں، گمراہ کرنے کے لئے انسان کو ، ان کو تو نہیں کاٹا کرتیں۔لا اکراہ فی الدین کے جو اکراہ کے معنی ہیں کہ دوسرے کو مجبور کرنا حالانکہ وہ کراہت محسوس کرتے ہیں دین اسلام سے لیکن مجبور کرنا کہ اس کے برعکس تم اپنی محبت کا اعلان کرو اس پر بعض اور آیات قرآنی بھی روشنی ڈالتی ہیں سورۃ محل میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔مَنْ كَفَرَ بِاللهِ مِنْ بَعْدِ اِيْمَانِةِ إِلَّا مَنْ أَكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَبِنٌ بِالْإِيمَانِ وَلَكِنْ مَنْ شَرَحَ بِالكُفْرِ صَدْرًا فَعَلَيْهِمْ غَضَبْ مِنَ اللهِ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ (النحل : ۱۰۷) جو لوگ بھی اپنے ایمان لانے کے بعد اللہ تعالیٰ کا انکار کریں سوائے ان کے جنہیں کفر پر مجبور کیا گیا ہو لیکن ان کے دل ایمان پر مطمئن ہوں وہ گرفت میں نہ آئیں گے (جن کا دل مطمئن ہے ) ہاں وہ جنہوں نے اپنا سینہ کفر کیلئے کھول دیا ہو ان پر اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا غضب نازل ہوگا اور ان کے لئے بڑا بھاری عذاب مقدر ہے اور پھر فرماتا ہے اس کے بعد اور ایسا اس سبب سے ہوگا، اگلی آیت میں ہے کہ انہوں نے اس ورلی زندگی سے محبت کر کے اسے آخرت پر مقدم کر لیا اور نیز اس وجہ سے کہ اللہ تعالیٰ کفر اختیار کرنے والے لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا تو ایک شخص کفر کی راہوں کو اختیار کرتا ہے۔ایک شخص دنیا سے اندھی محبت رکھتا ہے اور دنیا کو اپنے پیارے رب کے لئے چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ایک شخص مطمين بالكفر ہے اور شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدرًا اس کا اس کے اوپر اطلاق ہوتا ہے اس کے متعلق