انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 358 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 358

تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۳۵۸ سورة البقرة اور خدا ان سے کہتا ہے ہم تمہارے پاس حق لے کر آئے تھے لیکن تم میں سے اکثر حق سے نفرت اور کراہت کرتے تھے۔وہ شخص جو دل سے یہ نفرت اور کراہت کرنے والا ہے حق سے، زبان سے کچھ کہلوالینا اس سے نہ اس کی بہتری کے لئے ہے نہ اسلام کی بہتری کے لئے ہے۔یہ دو آیات میں نے اس لئے آپ کے سامنے رکھی ہیں کہ لا اكراه فی الدین میں ایک کراہت کو دور کرنے کا جبر ذکر کیا ہے تو اور دونوں جگہ ایک جگہ وَ اَكْثَرَكُمْ لِلْحَقِّ كَرِهُونَ اور دوسری جگہ مَنْ شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدرًا یعنی حق سے کراہت کرنے والے اور کفر کے لئے شرح صدر رکھنے والے اور مطمئن، ان کے دل مطمئن ہیں کفر پر اور شرح صدر ہے ان کا کفر پر اور حق سے وہ کراہت رکھنے والے ہیں۔یہ ہے ان کی کیفیت ان آیات میں بتائی گئی۔ان کے متعلق کہا گیا ہے کہ لَا إِكْرَاهَ فِي الدین دین کے معاملہ میں ایسے لوگوں کو جبراً تم مسلمان نہیں بنا سکتے جبر ا تم نیکیاں نہیں کروا سکتے کیونکہ قَد تَبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَى دلائل کے ساتھ اور بینات کے ساتھ حقیقت کو واضح کر دیا گیا اور کھول کر بیان کر دیا گیا ہے۔اور پھر اللہ تعالیٰ سورۃ یونس میں فرماتا ہے :- وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ لا مَنَ مَنْ فِي الْأَرْضِ كُلُّهُمْ جَمِيعًا ( يونس : ۱۰۰ ) اگر جبر کرنا ہوتا اگر جبر کو جائز رکھنا ہوتا تو انسان پر کیوں چھوڑا جاتا جبر، خدا تعالیٰ خود جبر کرتا أَفَأَنْتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتَّى يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ (یونس: ۱۰۰ ) اور اگر اللہ تعالیٰ ہدایت کے معاملہ میں اپنی ہی مشیت کو نافذ کرتا تو جس قدر لوگ زمین پر موجود ہیں وہ سب کے سب ایمان لے آتے۔پس جب خدا تعالیٰ مجبور نہیں کرتا تو کیا تو لوگوں کو ( محمد صلی اللہ علیہ وسلم مخاطب ہیں ) مجبور کرے گا وہ مومن بن جائیں یعنی جن کے دلوں میں حق سے اتنی کراہت جو کفر کے لئے اس قدر شرح صدر رکھتے ہیں وہ زبر دستی تو ان کے دل نہیں بدلے جاسکتے نہ مَنْ شَرَحَ بِالكُفْرِ صَدْرًا کی جو کیفیت ہے وہ دور کی جاسکتی ہے۔نہ یہ جبراًاکراہ سے کراہت دور نہیں کی جاسکتی۔اس کو دور کرنے کے لئے بینات اور دلائل ہیں جو خدا تعالیٰ نے بڑی کثرت کے ساتھ اسلام کے حق میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیئے۔دلائل قرآنی جو ہیں وہ اتنی وسعت ہے ان میں کہ قیامت تک خدا تعالیٰ کے اس کلام سے ایک کے بعد دوسرا، ایک کے بعد دوسرا، روشن ستارہ نکلتا چلا آتا ہے انسان کی ہدایت کے لئے۔اور علوم کے میدانوں میں، عقلی علوم کے میدانوں میں روحانی علوم کے میدانوں میں ایک روشنی جو ہے وہ پیدا ہوتی چلی جارہی ہے اور قرآن