انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 328
۳۲۸ سورة البقرة تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث سیم پیدا کر کے اسے بنجر بنا دیتا ہے اور اس طرح اس کی آمد کم ہو جاتی ہے۔پس اللہ تعالیٰ اس آیت میں فرماتا ہے کہ کسی مالدار کو مفلس اور قلاش بنادینا یا کسی غریب اور مفلس کو مالدار اور غنی بنادینا میرے یا اور اختیار میں ہے اس لئے اگر تم مجھ سے کوئی سودا کرو گے تو اس میں تمہیں کوئی گھاٹا نہیں ہوگا۔کیونکہ میں قادر مطلق اور رزاق ہوں۔پھر قبض کے معنی مضبوطی سے پکڑ لینے کے بھی ہوتے ہیں اور مضبوطی سے اس شئے کو پکڑا جاتا ہے جس کے متعلق فیصلہ ہو کہ اسے چھوڑنا نہیں۔کیونکہ اگر اسے چھوڑا تو نقصان ہوگا۔ان معنوں کے رو سے اللہ تعالیٰ اس آیت میں یہ بیان فرماتا ہے کہ جو مال تم میرے سامنے بطور ہدیہ پیش کرو گے میں اسے مضبوطی سے پکڑ لوں گا یعنی اسے ضائع نہیں ہونے دوں گا یہ میرا تمہارے ساتھ وعدہ ہے جسے میں بہر حال پورا کروں گا ان معنوں کی رو سے اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندے کو بڑی امید دلاتا ہے۔اس میں شک نہیں کہ وہ غنی ہے اور اسے تمہارے اموال کی حاجت نہیں لیکن تمہاری پاک نیتوں اور محبت اور فنافی الہی کو دیکھتے ہوئے وہ اپنی رحمت سے تمہیں نوازتا ہے اور شکر اور پیار کے ساتھ تمہاری مالی قربانیوں کو قبول کرتا ہے اور مضبوطی کے ساتھ انہیں پکڑ لیتا ہے اور انہیں ضائع نہیں ہونے دیتا بلکہ و ينقط اپنی بے پایاں عطا بھی اس میں شامل کرتا ہے اور انہیں بڑھا کر اور وسعت دے کر کہیں سے کہیں لے جاتا ہے اور وہ تمہیں اس دنیا میں بھی اپنی عطائے کثیر کا حقدار بنا دیتا ہے اور جب تم لوٹ کر اس کی طرف جاؤ گے تو وہ بڑے پیار سے تمہیں کہے گا یہ لو اپنے مال جو تم نے میری راہ میں خرچ کئے تھے دیکھو میں نے تمہارے لئے انہیں کس قدر بڑھایا اور ان میں کس قدر کثرت اور وسعت بخشی۔پس خوش ہو کر اپنے ربّ کے ساتھ بھی کوئی گھاٹے کا سودا نہیں کرتا۔۔(خطبات ناصر جلد اول صفحه ۱۵۰ تا ۱۵۴) اس میں جو مضمون بیان ہوا اس میں سے میں نے چھ باتیں اٹھائی ہیں۔پہلی بات یہ کہی گئی کہ مَنْ ذَا الَّذِی کیا کوئی ہے جو اللہ تعالیٰ کو اپنے مال کا ایک اچھا ٹکڑا کاٹ کر دے؟ کیا کوئی ہے؟ یہ اعلان ہے انسانیت کی طرف حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رنگ میں مالی قربانی کا اعلان غالباً تاریخ انبیاء میں پہلی دفعہ کیا۔مَنْ ذَا الَّذِی کیا کوئی ہے؟ اس وقت تو جن کی پرستش کرتے تھے ، بتوں کی رؤسائے مکہ، ان کے لئے بھی خرچ نہیں کرتے تھے،