انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 329 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 329

تفسیر حضرت خلیفہ امسح الثالثة ۳۲۹ سورة البقرة ان پر بلکہ ان کی وجہ سے پیسے بناتے تھے اور آمد پیدا کرتے تھے۔وہ دولت کمانے کا ذریعہ تھے اس دنیا میں۔وہ اخروی زندگی میں کچھ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں تھے اور یہ اعلان، حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی اتباع میں اُمت محمدیہ کے جو چودہ سو سال گزرے ہیں اس میں تمام خدا تعالیٰ کے مقرب مصلح اور ولی جو ہیں، یہ آواز دیتے رہے ہیں کیونکہ مختلف خطہ ہائے ارض میں ایک چکر کے اندر مسلمانوں کے گروہ غافل ہوتے رہے۔خدا تعالیٰ کی راہ میں مالی قربانی کے میدان میں ا اور ان کو یہی کہا گیا۔مَن ذَا الَّذِی کیا کوئی ہے جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربانی دینے والا ہو؟ تاریخ کی باتیں تو دور کی باتیں ہیں، ہماری اپنی زندگی کی ابتدا میں جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے ساری دنیا میں اسلام کو غالب کرنے کے منصوبہ پر عمل پیرا ہونے کے لئے ایک جماعت کو قائم کیا تو اس وقت جو ہماری شروع کی تاریخ ہے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں دو آنے پیش کرنا بھی بڑا بار محسوس کرتا تھا، اس وقت کا ایک مسلمان، ایمان تھا، دعویٰ تھا لیکن بہت سارے ایسے حالات پیدا ہو چکے تھے کہ وہ مالی قربانی کو بالکل بھول چکا تھا۔اس واسطے ہمیں نظر آتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو آپ پر شروع میں ایمان لائے اور انہوں نے مالی قربانی میں حصہ لینا شروع کیا تو جس نے دو آنے دیئے یا چار آنے دیئے ، ان کے نام بھی اپنی کتابوں میں لکھ کے قیامت تک ایک دعا حاصل کرنے کی زندگی انہیں بخش دی۔ایک خاندان ایک اور ضمن میں میرے سامنے آیا۔ایک شخص اپنے اخلاص سے لنگر خانے میں کام کرتا تھا اور چی کا اور اس کو تین روپے تنخواہ ملتی تھی مہینے کی اور کھانا لنگر خانے میں ملتا ہی ہے ہر ایک کو، اس کا حق ہے اور تین روپے کے اوپر اگر وصیت بھی ہے تو پانچ آنے سے کچھ کم رقم بنتی ہے۔ماہانہ۔یہ قربانی تھی لیکن اصل قربانی ی تھی کہ اپنی زندگی ایک طرح وقف کی ہوئی تھی اور اللہ تعالیٰ نے اس پر یہ فضل کیا کہ اس کے بچوں میں سے پانچ کے متعلق تو مجھے علم ہے کہ ہر ایک آٹھ ، دس ہزار ماہانہ کمانے تو لگ گیا ہے۔جس کا باپ تین روپے سے خدمتِ سلسلہ اور خدمت مہدی معہود علیہ الصلوۃ والسلام کر رہا تھا۔مَنْ ذَا الَّذِی کیا کوئی ہے؟ یہ نعرہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے لگایا۔اور یہ ایک نعرہ ہے جس کا ایک پہلو یہ ہے کہ لوگ مالی میدان میں خدمت کا شوق بھول چکے ہیں اور ان میں شوق پیدا