انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 327
تفسیر حضرت خلیفہ امسح الثالث المسح ۳۲۷ سورة البقرة ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے رزق میں فراخی پیدا ہوگئی ہے۔غرض اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مال کو روک رکھنا کہ وہ کسی خاص فرد کو نہ ملے یا مال کو حکم دینا کہ فلاں کے پاس چلے جاؤ۔یہ صرف میرا کام ہے اور کسی کا نہیں اور اگر یہ میرا کام ہے تو جب بھی کوئی شخص میری راہ میں خرچ کرے گا تو اسے امید رکھنی چاہیے کہ میں جس نے اپنی قدرت کی تاریں ساری دنیا میں پھیلا رکھی ہیں اسے مایوس نہیں کروں گا بلکہ اس کے مالوں میں اور اس کی زندگی میں زیادہ سے زیادہ برکت ڈالتا چلا جاؤں گا۔دوسرے معنی يَقْبِضُ وَ يَبضُطُ کے یہ ہیں کہ خدا تعالیٰ کسی ملک یا کسی خاندان یا کسی فرد کے سرمایہ یا جائیداد کی پیداوار میں اضافہ کر دیتا ہے یا کمی کر دیتا ہے اور یہ نہیں ہوتا کہ مال یہاں سے لیا اور وہاں رکھ دیا اس سے لیا اور اسے دے دیا۔پہلے معنوں کی رو سے تو یہ تھا کہ مال کسی سے لیا اور دوسرے کو دے دیا ایک کے کاروبار میں بے برکتی ڈالی اور دوسرے میں برکت ڈال دی۔لیکن ان معنوں کی رو سے یہ شکل ہوگی کہ اللہ تعالیٰ بغیر اس کے کہ کس کے کاروبار اور اموال میں بے برکتی ڈالے۔وہ دوسرے کے کاروبار اور اموال میں زیادتی اور افزائش پیدا کر دیتا ہے یا دوسرے کے کاروبار اور اموال میں زیادتی کئے بغیر اس کے اموال اور کاروبار کو کم کر دیتا ہے مثلاً ایک زمیندار ہے اس کی زمین بنجر تھی اس میں کوئی پیداوار نہیں ہوتی تھی یا اگر ہوتی تھی تو بہت کم۔اللہ تعالیٰ نے سمندروں سے پانی کو بادلوں کے ذریعہ اُٹھایا پھر وہ بادل ایسی جگہ بر سے کہ بعض دریاؤں میں طغیانی آگئی۔اللہ تعالیٰ نے اس طغیانی کے پانی کو اس شخص کی بنجر زمین میں پھیل جانے کا حکم دیا یہ پانی اپنے ساتھ پہاڑوں سے پیداوار بڑھانے والی مٹی کے اجزا لے آیا تھا۔اللہ تعالیٰ نے ان ذرات ارضی کو حکم دیا کہ اس شخص کی زمین میں ٹھہر جاؤ۔تمہارا سفر ختم ہو چکا چنانچہ وہ ذرات ارضی اس کی بنجر زمین میں ٹھہر گئے اور اس طرح جس ایکڑ سے وہ شخص بمشکل دو تین من گندم سالانہ پیدا کرتا تھا اور ادھی پچدھی کھا کر گزارا کرتا تھا اسی زمین میں اتنی طاقت اور زندگی پیدا ہو گئی کہ اب اس میں پندرہ پندرہ من گندم سالانہ پیدا ہونے لگی۔اسی طرح ایک اور زمیندار ہے اس کی زمین بڑی اچھی ہے اس میں بہت زیادہ پیداوار ہوتی ہے اور اس کی زرخیزی مالک کی آمد میں بہت اضافہ کرتی ہے۔اللہ تعالیٰ جو آسمان سے حکم بھیج کر غریب اور مفلس لوگوں کو مالدار بنا دیتا ہے اور مالداروں کو مفلس اور قلاش بنادیتا ہے اس زرخیز زمین میں تھور اور