انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 320 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 320

٣٢ سورة البقرة تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث ہورہی ہے خدا تعالیٰ کی صفات کے جلووں کے نتیجہ میں جس شخص کو صرف اتنا علم ہی حاصل ہو جائے باقی ( سمجھیں آپ بالکل اندھیرا ہے۔صرف یہ روشنی اس کے سامنے آئی ہے اپنے رب کے متعلق تب بھی اس کے دل سے نکلتی ہے تکبیر کہ خدا سب سے بڑا ہے بڑا بلند ہے اور سُبحان اللہ۔ایسا قانون بنا دیا کہ جتنا گہرائیوں میں بھی جاؤ یہ پتا لگتا ہے کہ کوئی عیب اس کے فعل میں نظر نہیں آتا اور کوئی تضاد ہمیں وہاں نظر نہیں آتا۔قرآن کریم میں کئی جگہ کہا ہے۔سورۃ ملک میں بھی ہے کہ خدا تعالیٰ کی صفات اور اس کے جلووں میں تمہیں کوئی تضاد نظر نہیں آئے گا۔یہ بڑا لطیف مضمون ہے۔ایک ہے سائنس، آپ یہ کہیں گے کہ ہر ایک کیسے ہر سائنس پر عبور حاصل کرلے۔ایک ہے وہ سائنس جس کی تحقیق میں ایک جماعت سائنس دانوں کی مشغول ہوتی ہے اور بڑے پیسے خرچ کرتی رہی ہے دنیا۔انتہائی قیمتی آلات بناتے ہیں مثلاً ستاروں کا جو یہ علم ہے اس کے لئے کروڑوں کروڑوں ڈالر کی انہوں نے دور مینیں بنائی ہیں ستاروں کو دیکھنے کے لئے۔ہر علم کی ان باریکیوں اور گہرائیوں میں تو ہر انسان نہیں جاسکتا لیکن جو ان کے اندر بنیادی اصول کام کر رہے ہیں وہ ہمیں ایک دوسرے سے سیکھنا چاہیے تا کہ خدا تعالیٰ کی عظمت اور جلال کا جو سایہ ہے وہ ہماری روح کے اوپر پڑے اور ہم بہکنے سے محفوظ ہو جائیں۔پھر ایٹم کی طاقت ہے ایک ذرے کے اندر اتنی طاقت خدا تعالیٰ نے بند کر کے رکھ دی ہے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ایک طرف وسعت اتنی کہ گیلیکسیز کا شمار نہیں اور ہر گیلیکسی میں اتنے سورج کہ کسی ایک گیلیکسی کے سورجوں کی تعداد بھی ہم پتا نہیں لگا سکے اور دوسری طرف ایک ذرہ (ایٹم) لے لو اس کے اندر اتنی طاقت خدا تعالیٰ نے بند کی ہوئی ہے کہ انسانی عقل حیران رہ جاتی ہے۔اس کی طاقت جو ہے وہ انسان کو فائدہ بھی پہنچا رہی ہے لیکن غلط استعمال کے نتیجہ میں ہلاکت کا بھی سامان پیدا کر رہی ہے۔خدا تعالیٰ کا اگر ذکر کرے انسان یعنی یہ علم جب اس کے سامنے آئے اور ساتھ ہی خدا تعالیٰ کی عظمت اور خدا تعالیٰ کی معرفت بھی اسے حاصل ہو اور عظمت کا جلوہ بھی اس پر ظاہر ہو تو پھر وہ سمجھے گا کہ خدائے قادر و توانا نے جو یہ عظیم چیز پیدا کی ہے اس سے خدا کی مخلوق کو ہلاک کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے لیکن اندھی ہے دنیا جو خدا کی معرفت حاصل کرنے کی بجائے خدا کے بندوں کو دکھ دینے کے سامان پیدا کر دیتی ہے۔اللہ تعالیٰ ایسے دماغوں کو ہدایت عطا کرے اور خدا ایسے سامان پیدا کرے کہ سارے ہی انسان خدا تعالیٰ کی معرفت حاصل کرنے والے ہوں۔