انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 321
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث الثالثة ۳۲۱ سورة البقرة گیلیکسیز کے متعلق ابھی جو میں نے آپ کو بتایا اس کے نتیجہ میں جب انسان کے سامنے یہ باتیں آئیں تو اس میدان کے سائنسدانوں میں سے ایک حصہ جو پہلے دہریہ تھا انہوں نے کہا اب ہمیں خدا تعالی کی ہستی پر یقین آگیا ہے۔یہ جوئی کیلیکسیز پیدا ہو ئیں تو یہ چیزیں سائنس دانوں کو اس طرف لا رہی ہیں۔لَا تَتَّخِذُوا آیت الله هووا یعنی خدا تعالیٰ کی جو آیات ہیں (اور خدا تعالیٰ کے دست قدرت سے پیدا ہونے والی ہر چیز قرآن کریم کی اصطلاح میں خدا تعالیٰ کی آیات میں سے ایک آیت ہے نشان ہے۔ایک ایرو (Arrow) ہے جو خدا تعالیٰ کی ذات کی طرف اور اس کی صفات کی طرف راہنمائی کرنے والا ہے ) ان کو محلِ استہزا نہ بناؤ کہ تم خدا کی طرف آنے کی بجائے اس سے دور ہونے لگ گئے بلکہ ان چیزوں کو ذریعہ بناؤ خدا تعالیٰ کی صفات کو سمجھنے اور خدا تعالیٰ کی عظمت اور اس کے جلال کی معرفت حاصل کرنے کا تاکہ اس کے نتیجہ میں جو ایک عظیم ہدایت خدا تعالیٰ نے (ما انْزَلَ عَلَيْكُمْ مِنَ الكِتب وَالْحِكْمَةِ ) نازل کی ہے جو حکمت سے پر اور دلیل دے کے انسانی عقل کی تسلی کرتی اور اسے سمجھاتی ہے کہ تمہارے فائدے کے لئے یہ سارے احکام دیئے گئے ہیں، اسی طرح جس طرح تمہارے فائدے کے لئے ہر دو جہان کی ہر چیز پیدا کی گئی ہے یعنی ایک ہی خدا دنیا کی ہر چیز کو انسان کے فائدے کے لئے پیدا کرے اور اس کے متعلق انسان یہ سمجھے کہ جو اس نے اپنی وحی کے ذریعہ شریعت اور ہدایت نازل کی اس کا کوئی حکم انسان کو دکھ دینے کے لئے ہے یا اس کے فائدے میں نہیں ہے یہ تو ایسی نا معقول بات ہے کہ میرے خیال میں اگر سمجھایا جائے تو ایک بچے کو بھی آسانی سے سمجھ آجائے گی یہ بات۔اتنی بڑی دنیا جس کے ایک حصے، چھوٹے سے نقطے کا میں نے ذکر کیا ہے وہ تو اس نے پیدا کی انسان کے فائدہ کے لئے اور بے شمار چیزیں ایسی بنادیں کہ انسان فائدہ ان سے حاصل کرتا ہے، فائدہ حاصل کرتا چلا جاتا ہے اور نئی سے نئی چیز اس کے علم میں آتی ہے اور اس کو پھر افسوس ہوتا ہے کہ میں نے پہلے کیوں نہیں یہ علم حاصل کیا۔پہلے اس سے فائدہ حاصل کر لیتا لیکن اس کے مقابلہ میں جو اس نے انسان کی ہدایت کے لئے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر کامل شریعت نازل کی وہ انسان کے فائدے کے لئے نہیں یا اس میں کوئی ایک بھی ایسا حکم ہے جو اس کے فائدے کے لئے نہیں۔یہ نا معقول بات ہے۔انسانی عقل، انسانی فطرت اسے قبول نہیں کرے گی۔اس واسطے خدا تعالیٰ نے اس آیت میں پہلے دنیا کی نعماء کا ذکر کیا کہ ہر چیز انسان کے فائدے