انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 319 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 319

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ٣١٩ سورة البقرة طریقے یہ ہیں وہ جو پہلے شیشے سے دیکھنے والے طریقے تھے وہ اب نہیں رہے۔بہت زیادہ آگے بڑھ چکا ہے انسان۔جو اب تک معلوم کیا وہ بھی یہ ہے کہ اس ہر دو جہان میں ان آسمانوں میں بے شمار ایسے قبائل ہیں۔ستاروں کے بے شمار ایسے قبیلے ہیں جن کو یہ سیلیکسیز (Glaxies) کہتے ہیں سیکسی ستاروں کے ایک ایسے قبیلے کا نام ہے جو اپنا ایک علیحدہ وجود رکھتا ہے اور بے شمار سورجوں پر مشتمل یہ قبیلہ بحیثیت مجموعی ایک نامعلوم جہت کی طرف حرکت کر رہا ہے اور دوسروں کے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہیں۔جو دوسری کیلیکسیز دوسرے قبائل ہیں ان کا ایک مستقل وجود ہے قبیلے ہونے کے لحاظ سے اور قبیلہ ہونے کے لحاظ سے۔اس کے اندر ان گنت ( یعنی جس کو انسان گن نہیں سکا ) سورج ہیں اور ان سورجوں کے گردستارے گھوم رہے ہیں۔تو سورج بھی ان گنت ہیں تو جو ان کے ساتھ ستارے مل جائیں تو ان کی تعداد کیا بن جاتی ہے، بے شمار گیلیکسیز ، بے شمار قبائل ہیں۔ہر یلیکسی میں بے شمار سورج ہیں اور پھر حرکت کر رہے ہیں یہ ، اور ان کی حرکت متوازی نہیں بلکہ ہر آن ایک دوسرے سے پرے ہو رہا ہے ہر قبیلہ ہر سیلیکسی اور درمیان میں ان کا فاصلہ بڑھتا چلا جارہا ہے اور سائنسدان کہتے ہیں کہ جب دو سیلیکسیز میں یعنی ستاروں کے ایسے قبیلے میں جس کے اندر بے شمار سورج ہیں جن کے گرد دوسرے ستارے پھر رہے ہیں اتنی جگہ ہو جائے کہ ایک میسی بے شمار ستاروں کی وہاں سما سکے تو وہاں کیلیکسی کن فیکون سے ایک نئی لیلیکسی (ستاروں کا قبیلہ ) پیدا ہو جاتی ہے۔بے شمار سورجوں پر مشتمل ایک میلیکسی وہاں پیدا ہو جاتی ہے۔ہورہا۔یہ کہنا کہ اس علم کی ایک مومن متقی کو ضرورت نہیں غلط بات ہے۔قرآن کہتا ہے لَا تَتَّخِذُوا آیتِ اللهِ هُزُواً خدا تعالیٰ کی مخلوق جو ہے اس کی گہرائیوں میں جو جاتے ہیں وہی معرفت صفات باری حاصل کر سکتے ہیں۔ہر آدمی تو ان گہرائیوں میں جانہیں سکتا۔اتنا بڑا علم ہے یہ اور اس میں پھر خدا کی ایک اور شان نظر آتی ہے۔پھر ہمیں یہ نظر آتا ہے کہ یہ ساری بے شمار کیلیکسیز ( ان گنت قبائل جو ہیں یہ ) قانون کی پابندی کر رہے ہیں۔خدا تعالیٰ نے ان کے لئے جو قانون اور قواعد بنائے ہیں۔ان کے پابند ہیں۔آپس میں نہ لڑتے ہیں نہ جھگڑتے ہیں۔کبھی یہ نہیں ہوا کہ ایک قبیلہ کا ستارہ دوڑ کے دوسرے قبیلے میں چلا جائے یا ادھر کا ادھر آ جائے یا ایک دوسرے کو نقصان پہنچا ئیں بلکہ جو حکم ہے وہ کر رہے ہیں اور پھر یہ کہ (ایک تو نئی ٹیلیکسیز پیدا ہو رہی ہیں ) جو موجود ہیں ان کی صفات میں زیادتی