انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 303
تغییر حضرت خلیفہ المسح الثالث سورة البقرة چنانچہ ان معنوں کی رو سے حرث سے یہ مراد لی جائے گی کہ زمین سے ایسا کام لیا جائے جس سے انفرادی اور اجتماعی بقاء کے سامان پیدا ہو جائیں۔اس کو اصل میں حرث کہتے ہیں۔اب زمین سے کام لینے کا مطلب یہ ہے انسان کی جو جسمانی طاقتیں ہیں انکی کمال نشو ونما کے لئے ذرائع پیداوار سے کام لیا جائے کیونکہ جب تک انسان کی جسمانی طاقتیں اپنے نشو نما کے کمال تک نہیں پہنچتیں اس وقت تک دوسری صلاحیتیں اور استعدادیں مثلاً ذہنی، اخلاقی اور روحانی استعدادوں کی نشوو نما ممکن ہی نہیں جسمانی طاقت دوسری استعدادوں کے پہنچنے کے لئے بنیاد کا کام دیتی ہے مثلاً انسانی جسم میں دماغ کے اندر کوئی خرابی پیدا ہو جاتی ہے تو ایسے شخص کو ہم کہتے ہیں کہ یہ مجنون ہو گیا ہے۔اس خاص قسم کی خرابی کے نتیجہ میں نہ وہ ذہنی نشو و نما حاصل کر سکتا ہے نہ اخلاقی اور روحانی نشو ونما حاصل کرسکتا ہے یا جب کوئی شخص لنگڑا ہو جائے یا کسی اور وجہ سے معذور ہو جائے تو وہ جسمانی طاقتوں کے نشو ونمانہ پانے کی وجہ سے ذہنی اور اخلاقی استعدادوں کی نشو ونما سے ایک حد تک محروم ہو جاتا ہے۔مثلاً ایسا شخص جہاد میں شامل نہیں ہو سکتا۔وہ جہاد کے ثواب سے محروم ہو جاتا ہے۔جہاد میں شامل نہ ہو کر انسان صرف اخلاقی اور روحانی قوتوں کی نشو و نما ہی سے محروم نہیں ہوا وہ ذہنی قوتوں کی نشو و نما سے محروم ہو گیا۔انگریزی کا محاورہ ہے یو لوٹولرن (You live to learn) یعنی زندگی کا ہر مشاہدہ ہمارے لئے بڑا اہم ہے اللہ تعالیٰ نے اسے ہمارے لئے معلم کے طور پر بنایا ہے۔ہمارا مشاہدہ ہمیں کچھ نہ کچھ ضرور سکھاتا ہے۔اگر ہماری جسمانی طاقتیں کسی لحاظ سے ہمارے مشاہدات کو ایک حد تک محدود کر دیں تو ہماری ذہنی نشو ونما اتنی وسیع نہیں ہو سکے گی جو دوسری صورتوں میں ممکن ہے۔پس حرث کے معنے بنیادی طور پر یہ ہیں کہ بنیادی ذرائع پیداوار کو ایسے رنگ میں استعمال کرنا کہ انسان کی تمام قوتیں اور صلاحیتیں اپنے اپنے دائرہ استعداد میں اپنے نشو و نما کے کمال کو پہنچ جائیں۔جہاں تک نسل کی ہلاکت کا سوال ہے۔نسل کے معنے ولد یا اولا دہی کے نہیں ہوتے نسل کے بنیادی اور حقیقی معنے جس سے آگے شاخوں کی طرح دوسرے معنے نکلتے ہیں (امام راغب لکھتے ہیں ) یہ ہیں الْإِنْفِصَالُ عَنِ القَنی کسی چیز سے علیحدہ ہو کر اس کا حصہ نہ رہنا نسل کہلاتا ہے۔یعنی اس رنگ میں حصہ نہ رہنا اور نہ تو بہت سے پہلوؤں کے لحاظ سے حصہ رہتا ہے اسی وجہ سے جو شخص جگہ کو جلدی جلدی چھوڑے تو ہم کہتے ہیں وہ دوڑ رہا ہے۔عربی میں کہتے ہیں نَسَلَ - يَنْسَلُ إِذَا سَرَعَ یعنی جب آدمی