انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 302 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 302

سورة البقرة تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث اور جس رنگ میں اسے اس آیت میں رکھا گیا ہے اس سے ایک بڑا عجیب مفہوم پیدا ہوتا ہے اور در حقیقت یہ لفظ ایک وسیع معنوں کی نشاندہی کر رہا ہے۔چنانچہ حرث کے معنی عربی زبان میں صرف کھیتی کے نہیں ہوتے۔ویسے کھیتی کے معنوں میں بھی یہ لفظ استعمال ہوتا ہے یعنی جو محروث ہے اسے بھی حرث کہتے ہیں لیکن اس کے اصل معنے کھیتی کے نہیں ہوتے۔اس کے اصل معنے مادی ذرائع پیداوار کے ہیں۔جن کے اندر انسان کا اپنی محنت سے ایسی تبدیلیاں پیدا کرنا مقصود ہے کہ وہ انسان کی فلاح کے سامان کا ذریعہ بن جائیں تاہم یہ لفظ جب زمین میں استعمال ہوتا ہے تو اس کے معنے ہوتے ہیں۔الْقَاءِ الْبَشْرِ فِي الْأَرْضِ وَ تَهَيُّوهَا لِلزِّرْع یعنی کھاد وغیرہ ڈال کر اور ہل وغیرہ چلا کر زمین کو کاشت کے قابل بنا دینا یعنی جو اس سے ہم نے پیداوار لینی ہے زمین کو اس کے قابل بنادینا اسی طرح کھیتی کو یا کمائی کو جو ہم اس سے حاصل کرتے ہیں اس کو بھی حرث کہتے ہیں۔تا ہم اس کا اصل اور بنیادی مفہوم یہ ہے کہ مادی ذرائع کو اپنی کوشش کے نتیجہ میں اس قابل بنا دینا کہ اس سے ہم اپنی انفرادی اور خاندانی اور ملکی اور عالمگیر فلاح و بہبود کے سامان پیدا کر سکیں۔یہ ہیں حرث کے اصل معنے۔ویسے جب عربی میں ہم یہ کہتے ہیں کہ حَرَت ناقتہ تو اس کے معنے ہوتے ہیں إِذَا اسْتَعْمَلَهَا یعنی اونٹنیوں کا استعمال کیا اور اونٹنیوں کا استعمال تو ان کی سواری ہوتی ہے۔اس کے علاوہ بھی اونٹ بڑا مفید جانور ہے۔اس کا گوشت کھائیں تب فائدہ پہنچتا ہے۔اس کی کھال کو استعمال کریں تب فائدہ پہنچتا ہے۔اس کی ہڈیوں کو مختلف کاموں میں استعمال کریں تب فائدہ پہنچتا ہے۔اس کے دودھ کو استعمال کریں تب فائدہ پہنچتا ہے یا پھر اس پر سواری کریں خصوصاً خلوص نیت کے ساتھ حج کے لئے جائیں تب فائدہ پہنچتا ہے۔چنانچہ ایک صحابی سے کسی نے پوچھا کہ فلاں موقع پر تم نے اپنی اونٹنیوں کا کیا کیا تھا۔تو انہوں نے کہا حر تتھا ہم نے ان کا موقع کے لحاظ سے استعمال کیا یعنی ان پر سواری کی۔یہ سارے معنے امام راغب نے کئے ہیں نیز وہ لکھتے ہیں: " كَمَا أَنَّ بِالْأَرْضِ زَرْعُ مَابِهِ بَقَاءُ اشْخَاصِهِمْ یعنی زمین مادی ذرائع پیداوار کی علامت ہے۔سورج کی شعاعیں زمین کے اندر جذب ہونے کے بعد ہمارے کام آتی ہیں۔زمین سے مراد یہ سارا کرہ ارض اور اس کی ہوا وغیرہ ہے اسے قرآن کریم کی رو سے الارض کہا جاتا ہے اور یہ ذرائع پیداوار کی ایک علامت ہے۔پس قرآن کریم نے زمین کو ذرائع پیداوار کی ایک علامت ٹھہرایا ہے۔66 وو