انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 304
تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۳۰۴ سورة البقرة تیزی سے دوڑنے کے نتیجہ میں جلدی جلدی جگہ بدلتا ہے تو اس کونسل کہتے ہیں۔امام راغب نے مفردات میں ایک عجیب محاورہ دیا ہے۔دراصل میں اسی چیز کو نمایاں کرنا چاہتا ہوں۔چنانچہ امام راغب نے مفردات میں لکھا ہے کہ نسل کا لفظ اس محاورے میں استعمال ہوا ہے۔إِذَا طَلَبْتَ فَضْلَ إِنْسَانٍ فَخُذُ مَا نَسَلَ لَكَ مِنْهُ عَفُوا یعنی اگر تم کسی آدمی کی بزرگی کو دیکھنا چا ہو تو تم اس کے حسن سلوک کو دیکھو جو رضائے الہی کے لئے وہ تم سے کر رہا ہے۔تمہیں پتہ لگ جائے گا کہ وہ کس قسم کا انسان ہے۔دراصل عَفُوا کے معنے ہوتے ہیں رضائے الہی کے حصول کے لئے حسن سلوک کرنا۔کیونکہ عفوا کہیں تو اس سے الْقَصْدُ لِتَنَاوُلِ الشيء مراد ہوتی ہے۔پس مَا نَسَلَ لَكَ مِنْهُ عَفُوًا کے معنے ہوں گے جو اس نے تجھ سے حسن سلوک کیا عفو کے طور پر یعنی کسی چیز کے حصول کے لئے تو چونکہ انسانی فضل رضائے الہی ہی کی بنیادوں پر استوار ہوتا ہے۔اس لئے میں نے اس کے یہ معنے کئے ہیں کہ جو شخص رضائے الہی کے حصول کے لئے تجھ سے حسن سلوک کرتا ہے اس سے اس کا فضل ظاہر ہوتا ہے۔اسی طرح نسل کے معنے چھوڑ دینے کے بھی ہوتے ہیں مثلاً جب شہد اپنے چھتے سے خود بخود نکلے تو اس شہد کو النَّسِيْلَةُ کہتے ہیں یعنی اس کو آگ کے اوپر گرم کر کے نہیں نکالا جاتا بلکہ بعض دفعہ وہ خود بخود بہہ نکلتا ہے۔ہمارے پاس بہت سارے دوست شہد لے آتے ہیں یا ہم خود اپنے باغ سے چھتے اتر واتے ہیں۔چنانچہ ہم شہد نکالنے کے لئے یہ آسان طریق اختیار کرتے ہیں کہ ایک ململ کے کپڑے میں چھتے کا شہر والا حصہ باندھ کر لٹکا دیتے ہیں اور نیچے برتن رکھ دیتے ہیں۔اس طرح شہد اپنے ہی وزن سے کشش ثقل کی وجہ سے بہہ نکلتا ہے غرض جس شہد کونکالنا نہ پڑے بلکہ خود بخود بہہ نکلے۔اس کو نسيلة کہتے ہیں۔اسی طرح جب دودھ دینے والے جانوروں کے تھنوں سے دودھ نکالا نہ جائے بلکہ خود بخود بہہ نکلے تو ایسے دودھ کو اک نسل کہتے ہیں۔بعض عورتوں کے پستان سے بھی دودھ بہہ نکلتا ہے اور کپڑوں کو خراب کر دیتا ہے عورتیں سمجھتی ہیں کہ ان کے کپڑے خراب ہو گئے اسی طرح بھینس یا بکری کا دودھ بھی بعض دفعہ خود بخو دگر تا رہتا ہے۔پس اس کا اصل مفہوم یہ ہے کہ کوئی چیز جو خود بخو دعلیحدہ ہو جائے وہ نسئلة کہلاتی ہے۔اس جگہ نسل