انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 296 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 296

تغییر حضرت خلیفہ المسح الثالث ۲۹۶ سورة البقرة خلوص اور ایثار پر مبنی ہوتی ہے۔ایسا شخص دوسرے کے جذبات کا خیال رکھتا اور اس کے لئے ہر ممکن قربانی بھی دیتا ہے۔کیونکہ اس قسم کے خلوص اور ایثار کے بغیر باہمی جھگڑے ختم نہیں ہوتے۔مگر جو شخص جھگڑالو ہوتا ہے وہ ایثار کی جڑیں کاٹتا ہے۔وہ دوسرے کی ہر بات کو اپنی بے عزتی پر محمول کرتا ہے۔کہنے والے کے ذہن میں وہ بات نہیں ہوتی مگر یہ اس کی بات کو نئے رنگ میں دوسرے لوگوں کے دماغ میں ڈال دیتا ہے۔جس سے اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگوں میں اشتعال پیدا ہو اور وہ جھگڑا کریں۔اب یہ تو ظاہر ہے کہ جھگڑے کے نتیجہ میں فساد ہوتا ہے۔صلاح تو پیدا نہیں ہوتی۔پس يُعْجِبُك قوله في الحيوةِ الدُّنْيَا کی رو سے اس کا دعویٰ تو صلاح کا ہوتا ہے لیکن اس کے قول اور فعل کا تضاد نمایاں ہو کر سامنے آجاتا ہے۔گو بعض چیزیں تو لوگ اپنی منافقت کی وجہ سے چھپا لیتے ہیں۔تاہم جو چیز چھپائے نہیں چھپتی۔وہ ان کا اللُّ الْخِصَامِ ہونا ہے۔وہ ذرا ذراسی بات پر جھگڑا کرنے لگ جاتے ہیں اور اس سے ان کی اصلیت ظاہر ہو جاتی ہے۔دو 66 66 اب آج کل جو سیاسی فساد ہمارے ملک میں رونما ہے اگر آپ اسے غور سے دیکھیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ اس کے پس پردہ الدُّ الخِصَامِ کی خصوصیات کارفرما ہیں۔مثلاً ( اور ب دو سیاسی پارٹیاں ہیں کہتی ہے ”ب“ نے میرے خلاف یہ کہا ہے اور ”ب“ ” کے خلاف الزام لگاتی ہے کہ تم نے جو بات کہی ہے اس کا مطلب یہ ہے۔چنانچہ جھگڑا کرنے کے لئے اپنے مطلب کی بات نکال لیتے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔جو شخص آلن الْخِصَامِ کے گروہ میں ہے وہ خواہ کتنا ہی مَنْ يُعْجِبُكَ قوله في الحيوةِ الدُّنیا کے زمرہ میں آجائے اور خواہ کتنی ہی چرب زبانی سے کام لے اور بظاہر بڑی ہی پسندیدہ باتیں کرے اور قسمیں کھا کھا کر کہے میں بڑا مخلص ہوں۔ملک کا استحکام میرا مقصد ہے اور یہ ہے اور وہ ہے۔یا وہ یہ کہے کہ ہم بھی دنیا میں غلبہ اسلام چاہتے ہیں، اسلامی معاشرہ کے لحاظ سے برسر اقتدار جماعت کی طرح ہم بھی مساوات محمد ی چاہتے ہیں لیکن ان تمام باتوں کے بعد ذراسی بات میں نہ وہ مساوات باقی رہتی ہے اور پھر جہاں تک انسان کے اقتصادی حقوق کا تعلق ہے نہ وہ حقوق کی ادائیگی باقی رہتی ہے۔نہ وہ حب الوطنی باقی رہتی ہے اور نہ ہی پاکستان کے استحکام کا خیال باقی رہتا ہے۔وہ لڑائی شروع کر دیتا ہے کہتا ہے اچھا تمہارا مطلب یہ ہے یا جو تم نے فقرے کہے ہیں،