انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 295 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 295

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۲۹۵ سورة البقرة نہ کرنے کے ہوتے ہیں۔اس کے مقابلے میں صلاح کے معنی بنیادی طور پر یہ ہیں کہ حقوق وواجبات کے ادا کرنے کی اہلیت بھی ہو اور حقوق و واجبات ادا بھی کئے جائیں۔غرض فساد اور صلاح کے معنوں پر میں نے پچھلے خطبہ میں بھی مختصر روشنی ڈالی تھی اور بتایا تھا کہ اللہ تعالیٰ فساد کو پسند نہیں کرتا فساد کا وہ خوشکن اور حسین نتیجہ نہیں نکلتا جو صلاح کا لکھتا ہے اور جو اس دنیا کو بھی جنت میں تبدیل کر دیتا ہے کیونکہ اگر انسانوں کے حقوق و واجبات ادا نہ ہوں۔اگر انسان انسان کے حقوق پامال کر رہا ہو تو وہ جنت پیدا نہیں ہو سکتی جو اس صورت میں پیدا ہوتی ہے کہ جب ہر شخص کے جو بھی حقوق اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمائے ہیں وہ اس کو مل جائیں۔پھر میں نے اپنے گذشتہ خطبہ میں یہ بھی بتایا تھا کہ فطرتی اہلیت یعنی وہ قو تیں اور استعدادیں جو انسان کو دی گئی ہیں وہ حقیقت اللہ تعالیٰ کی صفات کا مظہر بننے کے لئے دی گئی ہیں۔صلاح میں ہمیں صفات باری تعالٰی کا عکس نظر آتا ہے۔فساد اس کے الٹ ہے۔کیونکہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی صفات کے مقابلے پر آتا ہے، اس کے اعمال کا وہ نتیجہ تو نہیں ہو سکتا جو اس شخص کے اعمال کا نتیجہ ہوسکتا ہے اور ہوتا ہے جس کے اعمال اللہ تعالیٰ کی صفات کی مظہریت کے جلوے دکھا رہے ہوں۔چنانچہ سورۃ بقرہ کی ان آیات میں جن کی میں نے ابھی تلاوت کی ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يُعْجِبُكَ قَوْله في الحیوۃ الدنیا تمہیں دنیا میں ایسے لوگ بھی نظر آئیں گے جو بظاہر بڑی اچھی باتیں کرتے ہیں۔سیاست کے متعلق، سیاسی حقوق کے متعلق، معاشرہ میں حسن پیدا کرنے کے متعلق اور اقتصادی حقوق کو ادا کرنے کے متعلق بڑی دھواں دھار تقریریں کرتے ہیں۔جن میں حقیقت تھوڑی اور لفاظی زیادہ ہوتی ہے اور پھر یہی نہیں بلکہ وَيُشْهِدُ اللهَ عَلَى مَا فِي قَلْبِهِ وہ ساتھ ہی ساتھ قسمیں بھی کھاتے ہیں اور اپنی ہر بات پر خدا تعالیٰ کو گواہ ٹھہراتے ہیں۔وہ ہر ایک سے یہ کہتے پھرتے ہیں کہ دیکھو! جس طرح ہماری زبان سے یہ باتیں نکل رہی ہیں اسی طرح ہمارا دل بھی خلوص سے پُر ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَهُوَ الدُّ الخِصَامِ ایسا شخص سخت جھگڑالو ہوتا ہے۔یہ اس کی خصوصیت ہوتی ہے۔یہ اس کی طبیعت ہوتی ہے جو اس کی لچھے دار تقریروں کے بعد ہر ایک کے سامنے ظاہر ہو جاتی ہے۔اس کے برعکس کوئی بھی شخص جو صلاح چاہتا ہے۔وہ اک الْخِصَامِ کے زمرہ میں شامل نہیں ہوسکتا کیونکہ صلاح