انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 297 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 297

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۲۹۷ سورة البقرة اس میں تم نے ہمیں گالیاں دی ہیں۔کہنے والے کی بات کچھ اور ہوتی ہے مگر یہ اس میں سے اپنے مفسدانہ مطلب کی بات نکالتا ہے اور اسے گالی بنالیتا ہے اور پھر اپنے حریف کو بغیر مطلب کے بے نقط گالیاں دینے لگ جاتا ہے۔ہمیں یعنی امت محمدیہ کے ان افراد کو جن کے دل میں اللہ تعالیٰ نے خلوص پیدا کیا ہے اور جو اپنے دل میں غلبہ اسلام کی تڑپ رکھتے ہیں اور ملکی اتحاد چاہتے ہیں اور نیکی اور تقویٰ کی راہوں کو اختیار کرنا چاہتے ہیں۔ہمیں یہ دیکھ کر بڑی کوفت ہوتی ہے۔ہمارے دل میں بڑی گھبراہٹ ہوتی ہے کہ یہ کیا مسخرہ پن ہے۔یہ کیا کھیل کھیلا جارہا ہے۔ایک طرف مذہب سے ، دوسری کہ۔طرف ملک سے، تیسری طرف معاشرہ سے اور چوتھی طرف اقتصادی حقوق کی ادائیگی سے۔پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ایسے لوگ جن کی زبان بظاہر بہت میٹھی اور باتیں بڑی اچھی معلوم ہوں۔اصولی طور پر وہ دعوے بھی بڑے کریں کہ ہم یہ ہیں، ہم وہ ہیں۔ہم یہ کرنا چاہتے ہیں اور ہم وہ کرنا چاہتے ہیں۔مگر ذرا ذراسی بات پر جھگڑا شروع کر دیں یعنی ایک طرف زبان بڑی میٹھی بھی ہے اور دوسری طرف وہ تلوار کی تیز دھار بھی ہے۔ایسا شخص اپنے دعویٰ میں سچا نہیں ہوتا۔وہ عملاً فسادی ہوتا ہے۔(پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ) واذا توٹی یہ وہ لوگ ہیں کہ جس وقت ان کو کسی سیاسی جماعت کی قیادت ملے۔دراصل تولی کے معنے صرف صدر مملکت یا بادشاہ وقت کے نہیں ہوتے بلکہ ہر چھوٹی موٹی قیادت پر توٹی کا لفظ بولا جاتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب بھی ان کو کسی قسم کے چھوٹے یا بڑے دائرہ میں قیادت مل جائے ) تو سَعَى فِي الْأَرْضِ لِيُفْسِدَ فِيهَا کے مصداق بن جاتے ہیں۔ملک میں خوب دورے کرتے پھرتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ ملک میں فساد اور بدامنی پیدا ہو۔پھر فرمایا : يُهْلِكَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ آیت کے اس ٹکڑے میں اللہ تعالیٰ نے اقتصادی اور معاشرتی خرابیوں کی نشاندہی فرمائی ہے۔مالک اور مزدور یا صاحب اقتدار اور حزب اختلاف کے جھگڑوں کی نوعیت کو اس چھوٹے سے فقرے میں بیان کر دیا ہے۔دراصل میرے پچھلے خطبہ کی تمہید اسی فقرے کے معانی اور مفہوم کو بیان کرنے کے لئے تھی۔اس حصہ آیت یعنی يُهْلِكَ الْحَرْثَ وَالنِّسْلَ کے تینوں لفظ بڑے اہم ہیں۔ان کے معانی اگر ہمارے ذہن میں حاضر ہوں تو پھر اس فقرے کا مفہوم واضح ہو جائے گا۔عربی زبان میں لفظ أهلَكَ يا اَلهَلاک کے تین معنے بیان ہوئے ہیں۔یہ معنے میں نے مفردات