انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 293
۲۹۳ سورة البقرة تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث وہ خرچ بھی نہیں کر سکتا۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ جو شخص نامرد ہے وہ پاک باز ہونے کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔کیونکہ اُسے طاقت ہی نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ نے انسان کو چار قسم کی طاقتیں اور صلاحیتیں بخشی ہیں اور ان کے اوپر اُخروی نعمتوں کا انحصار ہے، یہ طاقتیں ماں ہیں اُخروی نعمتوں کے حصول کی ، ان کے بغیر کوئی اُخروی نعمت نہیں مل سکتی۔خطبات ناصر جلد ۴ صفحه ۲۲۲ ۲۲۳) پس یہاں عمل ہے اور امتحان ہے اور دوسری زندگی میں عمل تو ہے ( نکما پن نہیں کہ پوستیوں کی طرح افیم کھا کر بیٹھ گئے اور اونگھتے رہے ) عمل ہے مگر امتحان نہیں۔یہاں عمل ہے اور امتحان ہے۔وہاں عمل ہے اور ترقیات کے دروازے کھلے ہیں۔وہاں پیچھے ہٹنے کا کوئی خطرہ نہیں ہے آگے ہی آگے بڑھنا ہے ہر روز زیادہ ترقیات ملتی ہیں اور ہر روز زیادہ عمل کی توفیق ملتی ہے۔پس یہ شکل ہے ایک مومن کی زندگی کی۔پھر دنیا میں اُس کے اعمال بھی یہی رنگ اپنے اندر رکھتے ہیں۔اور دوسری دُنیا میں بھی اُس کے اعمال یہی رنگ اپنے اندر رکھتے ہیں۔اس دنیا میں انسان مومن صالح ، خدا کا محبوب اور مقرب دو قسم کا عمل کرتا ہے۔ایک عمل ہے اُس کا شکر ادا کرنے کے لئے اور ایک عمل ہے مزید شکر کے سامان کے حصول کے لئے یعنی پہلے سے زیادہ ملے اور زیادہ وہ شکر ادا کرے۔ہمیں اتنا في الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً کی دعا سکھائی کہ ہمیں ایسے اعمال کی توفیق عطا کر کہ اس دنیا کی حسنات بھی ہمیں ملیں ( مثلاً درخت لگے ہوئے ہوں اور گرمی کم ہو۔یہ دنیا کے حسنات میں سے ہے ) اور ہمیں ایسے مقبول اعمال کی توفیق عطا کر کہ تیری جنتیں ہمیں یہاں سے جانے کے بعد حاصل ہوں۔جنتوں کے ہم حقدار ٹھہریں وہاں جانے کے بعد ایک ہی زندگی ہے یہاں ہمارے سامنے دو زندگیاں ہیں۔ایک اس دنیا کی زندگی اور ایک اُس دنیا کی زندگی اس لئے اتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً ہمیں سکھایا لیکن اُس دنیا میں ایک ہی زندگی ہے یعنی جنت کی زندگی اور اس میں امتحان نہیں ہے لیکن ترقیات ہیں اس لئے وہ ایک ہی قسم کے اعمال ہیں۔وہ اعمال شکر بھی ہیں اور مزید ترقیات کے حصول کے بھی ہیں یہاں فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً کی جو دعا ہے وہ شکر کے لئے ہے اور ناکامیوں سے بچنے کے لئے بھی ہے کہ جو تو نے دنیا کی نعمتوں کے حصول کے دروازے ہمارے لئے کھولے ہیں۔ان سے فائدہ اٹھانے کی توفیق دے اور ہمیں توفیق دے کہ ان پر تیرا شکر ادا کر سکیں اور کبھی محروم نہ رہ